شیطان کے چیلے — Page 269
268 اور تمام انسانوں کی لعنت بھیجتے ہیں اور تف بھیجتے ہیں ان کی اس جسارت پر۔یہ اس شخص کے بارہ میں بات کر رہے ہیں کہ جب وہ اپنے لئے چاند کی تشبیہ بیان کرتا ہے تو مقابل پر محمد ﷺ کو سورج قرار دیتا ہے اور خود کو محمد رسول اللہ ﷺ سے روشنی اخذ کرنے والا چاند قرار دیتا ہے۔ناممکن ہے کہ راشد علی یا اس کے پیر کی نظر سے یہ عبارتیں نہ گذری ہوں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ یہاں ہلال سے رسول اللہ ﷺ اور بدر سے اور حضرت مرزا صاحب مراد نہیں بلکہ سراجاً منیرا کی وہ روشنی مراد ہے جس نے اسلام کو ہلالی حالت سے بدر میں تبدیل کرنا ہے۔چنانچہ مرزا صاحب فرماتے ہیں: وان رسول الله شمس منيرة وبعد رسول الله بدر وكوكب کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحہ 103 ) ترجمہ :۔رسول الله علی تو یقینا روشنی دینے والے سورج ہیں اور آپ کے بعد تو بدر اور کوکب کا زمانہ ہے۔ایک اور جگہ فرماتے ہیں: ’ وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارا فاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور جس وقت تک ہم پر پڑتی ہے۔اسی وقت تک ہم منو ررہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 119) نیز فرماتے ہیں: ” ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنی درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی ﷺ کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہو