شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 267 of 670

شیطان کے چیلے — Page 267

266 اسی کتاب میں اس کا ترجمہ یہ تحریر ہے کہ " پس بیناؤں کی طرح اس آیت میں نگاہ کر۔کیونکہ یہ آیت یقیناً دو بدر پر دلالت کرتی ہے۔اوّل وہ بدر جو پہلوں کی نصرت کے لئے گزرا اور دوسرا وہ بدر جو پچھلوں کے لئے ایک نشان ہے۔کیونکہ اس آیت کے دو رخ ہیں اور نصرت دو نصر تیں اور بدرد و بدر ہیں۔ایک بدر گذشتہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا بد ر آ ئندہ زمانہ سے۔“ پھر فرمایا۔وكان الاسلام بدء كالهلال - وكان قدّر انّه سيكون بدراً في اخر الزمان والمآل باذن الله ذي الجلال - صفحه 275) کہ اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقد رتھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔اس مذکورہ بالا ساری عبارت میں اور سارے مضمون میں کہیں بھی یہ مضمون نہیں ہے کہ حضور کے زمانہ کے اسلام کو ہلال اور اپنے زمانے کے اسلام کو بدر سے تعبیر کیا۔یہ راشد علی اور اس کے پیر کی خرافات ہیں اور ان کی تلبیس کا شاہکار ہے کہ انہوں نے ایک پر معارف عبارت کو اپنے تلبسیا نہ معنے پہنانے کی کوشش کی ہے۔اس مضمون سے جو ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ سارا زمانہ اسلام ہی کا زمانہ ہے۔اس کا پہلا دور بھی بدر تھا اور دوسرا بھی بدر کیونکہ اسلام کو ملنے والی خاص نصرتیں بھی دو ہیں۔ایک بدر کے موقع پر اور دوسری اس صدی کے موقع پر جو بدر سے مشابہہ ہے یعنی چودھویں صدی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی ایک عمومی تقدیر کا ذکر فرمایا ہے جس کے تحت ہر چیز اپنی ارتقائی منازل طے کرتی ہے۔چنانچہ اسلام نے بھی اسی قانون قدرت کے تحت ترقی کی منازل طے کیں۔وہ مکہ سے نکل کر مدینہ آیا اور پھر وہاں سے اردگرد کے علاقوں میں پھیلا اور پھر رفتہ رفتہ دنیا کے کناروں تک محیط ہو گیا۔اسلام کی حدود کی ان وسعتوں پر چودہ صدیوں کا زمانہ صرف ہوا۔اسلام کی ترقی کے اس ارتقائی سفر کے مضمون کو بزرگانِ امت نے بھی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔مثلا یہ تفسیر روح المعانی تفسیر کبیر رازی اور تفسیر قرطبی وغیرہ میں زیر آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت مولانامحمد اسماعیل