شیطان کے چیلے — Page 249
248 الرجس وطهرني تطهيراً۔اس کے بعد وہ تینوں فرشتے آسمان کی طرف اٹھ گئے۔اور میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک طاقت بالا مجھ کو ارضی زندگی سے بلند تر کھینچ کر لے گئی اور وہ ایک ہی رات تھی جس میں خدا نے تمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں وہ تبدیلی واقع ہوئی جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادے سے نہیں ہو سکتی۔“ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 352،351) اس رویا میں مذکور فرشتے کا نام ” خیراتی در حقیقت ہندی، پنجابی یا اردو کا خیراتی “ نہیں بلکہ یہ 66 عربی زبان کا لفظ ہے جو ” خَیرَاتِی “ ہے جو خیر سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں” نیکیوں والا اس میں دی نسبتی ہے۔یہ اس فرشتے کا صفاتی نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا رویا بھی انہیں معنوں کی تائید کرتی ہے۔کیونکہ آپ کی یہ رویا 1874 ء کی ہے یعنی ماموریت سے پہلے کی ہے۔جو آپ کے اندر ایک مافوق البشر اور خارق عادت خیر اور اصلاح کی موجب تھی۔لیکن جو لوگ اس پر استہزاء کرتے ہیں وہ خود بھی تو انسان کے ساتھ خیر اور شتر کا حساب رکھنے والے دو فرشتوں کو مانتے ہیں۔جو خیرات یعنی نیکیوں کا حساب رکھنے والا ہے اسے یہ کیا کہیں گے؟ (3) را شد علی اور اس کے پیر نے ایک نام درشانی بھی لکھا ہے۔اس کا انہوں نے حوالہ نہیں دیا اس لئے ہم اس پر بحث کرنے سے قاصر ہیں۔علاوہ ازیں ایک فرشتے کا نام انہوں نے ” ایل“ بھی درج کیا ہے۔اور لکھا ہے کہ ان کے بعض فرشتوں کے نام تھے۔“ فرشتے تو خدا تعالیٰ ہی کے ہیں جن کو وہ مختلف ناموں سے اپنے پاک بندوں پر ظاہر فرماتا ہے۔مذکورہ بالا نام خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر فرمایا لیکن وہ ”ایل نہیں تھا 66 بلکہ ”ایل “ ہے۔جس کا معنی ہے ” بار بار آنے والا چنانچہ الہام الہی کے الفاظ یہ ہیں۔" جاء نی ایل واختار - وادار اصبعه واشار ـ ان وعد الله الى 66 (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106) ترجمہ:۔میرے پاس آیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ