شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 248 of 670

شیطان کے چیلے — Page 248

247 ترجمہ:۔اور تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا۔البتہ ان فرشتوں کے لشکر میں سے چند ایک وہ ہیں جن کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے پاک رسولوں کو خبر دی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے غیب میں سے کچھ کی اپنے رسولوں کو خبر دیتا ہے۔فرمایا: فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًاه إِلا مَنِ ارتَضَى مِن رَّسُول - (لجن 27 ،28 ) ترجمہ:۔وہ اپنے غیب پر کسی کو غلبہ عطا نہیں کرتا سوائے اپنے برگزیدہ رسول کے۔پس خدا تعالیٰ کے عطا کردہ علم کی بناء پر اس کے رسول بعض فرشتوں پر بھی اطلاع پاتے ہیں جس کا وہ ذکر کرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض فرشتوں سے آگا ہی عطا فرمائی۔ان پر اعتراض کرنا یا تمسخر کرتے ہوئے ان کے نام بگاڑنا اور تضحیک کرنا ، تو خدا تعالیٰ کی خدائی پر حاوی ہونے کے دعوی کے مترادف ہے اور اس کے جنود پر پوری اطلاع رکھنے کے دعوی کے برابر ہے۔ہاں اگر ایسے معترضین کے پاس خدا تعالیٰ کے لشکروں کا رجسٹر ہوتا اور فرشتوں کی مکمل فہرست موجود ہوتی اور اس میں سے چیک کر کے وہ بتاتے کہ فرشتوں کے وہ نام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں وہ اس فہرست میں نہیں ہیں تو پھر تو بات بن سکتی تھی۔اور اگر ایسی کوئی فہرست ان کے پاس نہیں ہے تو پھر یہ اپنے اعتراض میں محض جھوٹے اور بے باک ہیں۔(2) انہوں نے ایسا ہی ایک اور فرشتے کے نام پر اعتراض کیا ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السا نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں فرماتے ہوئے اس کا نام ” خیراتی بتایا۔یہ ایک رؤیا تھی۔اس رؤیا کا متعلقہ حصہ ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آپ نے دیکھا کہ اتنے میں تین فرشتے آسمان سے آئے۔ایک کا نام ان میں سے خیراتی تھا۔تب میں نے ان فرشتوں کو کہا کہ آ میں ایک دعا کرتا ہوں تم آمین کرو۔تب میں نے دعا کی کہ ربّ اذهب عنى