شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 83 of 670

شیطان کے چیلے — Page 83

83 ( بخاری۔کتاب الطب۔بالحجامة من الراس ) ترجمہ:۔حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہا بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے سر پر پچھنے لگوائے۔ابتدائے رسالت کی بات ہے کہ جب پہلی وحی کے بعد کچھ عرصہ کے لئے اس میں وقفہ پڑا اور وحی کا نزول نہ ہوا تو آپ بیتاب ہو گئے۔یہ ایام آپ نے سخت گھبراہٹ اور بے چینی میں گزارے۔عشق خدا کا یہ عالم تھا کہ ایک تھوڑے سے وقفہ سے آپ کی حالت غیر ہوگئی۔حدیث میں آتا ہے کہ ان ایام میں آپ کو اتنی گھبراہٹ تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور ارادہ کیا کہ وہاں سے اپنے آپ کو گرا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیں مگر ہر ایسے موقع پر الہی فرشتہ آواز دیتا کہ اے محمد ! ایسا نہ کریں۔آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔یہ آواز سن کر آپ رک جاتے مگر بے چینی اور اضطراب کی حالت پیدا ہوتی تو بے اختیار ہو کر پھر اپنے آپ کو ہلاک کر دینے کے لئے تیار ہو جاتے۔( بخاری۔باب بدء الوحی۔حامد اینڈ کمپنی اردو بازارلاہور۔مطبوعہ 1982ء) پھر ایک زمانہ وہ بھیآ یا کہ ہجوم مہمات وافکار نوع انسانی کے باعث آپ کی حالت ایسی بھی ہوئی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔انه ليخيل اليه انه يفعل الشّى وما فعله - ( بخاری۔کتاب بدء الخلق۔باب فی ذکر ابلیس وجنوده) کہ آپ کو خیال گذرتا تھا کہ آپ نے گویا کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے کیا نہ ہوتا تھا۔پس انبیاء علیہم السلام کے ہم و غم اور ان کے درد والم کی وجوہات ہی اور ہیں جن کی بناء پر ان کی بیماری کی نوعیت الگ ہی ہوتی ہے۔جسے دنیا دار لوگ ہمیشہ طعن کا نشانہ بنا کر انہیں مسحور و مجنون قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔گذلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلا قَالُوا سَاحِرٌ أَو مَجْنُونٌ ( الدريت :35) ترجمہ۔اسی طرح ان سے پہلے جو رسول آتے رہے ہیں ان کو لوگوں نے یہی کہا کہ وہ سحر زدہ ہیں یا مجنون ہیں۔چنانچہ انبیاء علیہم السلام کو سحر زدہ اور مجنون قرار دینے والوں نے سب سے بڑے صاحب عقل و