شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 84 of 670

شیطان کے چیلے — Page 84

84 بصیرت اور حکمت و دانش کے بادشاہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بھی نہیں چھوڑا۔صحیح بخاری ، کتاب الطبّ باب السحر میں ایک روایت مذکور ہے۔جس کی بناء پر مستشرقین آج تک یہ کہتے ہیں کہ آپ پر جادو کا اثر ہو گیا تھا (نعوذ باللہ ) حالانکہ خدا تعالیٰ نے اس بارہ میں آپ " کو وحی کے ذریعہ اطلاع بھی دے دی تھی کہ جس جادو کے بارہ میں مشہور کیا گیا ہے اس کی ذرہ برابر بھی حیثیت نہیں۔واقعہ یہ تھا ایک یہودی نے اپنے زعم میں آپ پر جادو کرنے کے لئے کنگھی پر بال لپیٹ کر اس پر اپنا مزعومہ جادو پھونک کر مدینہ کے ذروان نامی ایک کنویں میں پھینکی۔جب اس کی خبر آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے دی تو لوگوں نے دیکھ لیا کہ اس یہودی کے جادو کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔ان دنوں آنحضرت ہ علیل بھی تھے۔یہ مرض محض قدرتی طور پر ایک انسان کو لاحق ہونے والے عوارض میں سے ایک تھا جو آپ کو بھی ایک بشر ہونے کی وجہ سے لاحق ہوا اور جس سے خدا تعالیٰ نے آپ کو محض اپنے فضل سے محفوظ فرمایا۔لیکن بد بخت منکرین و مکفرین آپ پر اس مذکورہ بالا روایت اور بعض دیگر روایات کی بناء پر آج تک زبان طعن دراز کرتے ہیں۔چنانچہ سب سے پہلے یہ جھوٹ ایک بدبخت باز نطینی مؤرخ Died 817 AD) Theophanes) نے بڑی بے باکی سے تراشا تھا کہ جب آنحضرت ﷺ کی زبان سے غار حرا میں پیش آنے والے واقعہ کا ذکر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو ( نعوذ باللہ نعوذ باللہ ) انہیں سخت دکھ ہوا کہ ایک معزز خاندان کی ہوتے ہوئے بھی وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ منسلک کر دی گئی ہیں جو نہ صرف یہ کہ غریب آدمی ہے بلکہ مرگی کا مریض بھی ہے۔(نعوذ باللہ من ذالک) اس بات کا پھر دسمبر 1976ء کے Journal Epilepsia میں Frank R Freemason۔نے بھی حوالہ دیا ہے۔اس کے بعد پادری فانڈر نے احادیث کی کتب میں مذکور روایات کا حوالہ دیتے ہوئے آنحضرت پر بالکل اسی طرح بہتان باندھے ہیں جس طرح راشد علی اور اس کے پیر نے بعض روایات کے حوالے دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجنون اور مالیخولیا وغیرہ کا مریض ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ ملاحظہ فرمائیں، پادری فنڈر کی قلم کذلک زہر اگلتی ہے۔وہ لکھتا ہے : دو " قرآن اور عربی کی کتابوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد نے اوائل حال میں گمان کیا کہ فی