شیطان کے چیلے — Page 82
82 میں انتہائی مصروف گذرتا ہے۔رات کو چندلحات آرام کے میسر آئے بھی تو فوراً اٹھے اور خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری میں ہی ساری رات گزار دی۔رات کو نماز میں بعض اوقات اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔بنی نوع انسان کے لئے دعائیں کرتے اور ان کے غم میں حالت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُومِنِينَ (الشعرا :4) ترجمہ:۔کہ تو کہیں اس غم میں اپنی جان ہلاک نہ کر دے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔مہمات اسلامیہ کا یہ حال تھا کہ ایک دستہ مشرق کی جانب بھیجوایا ہوا ہے اور دوسرا مغرب کی طرف ، تیسرا شمال کی جہت تو چوتھا جنوب کی سمت۔مسلمان فدائیوں کی تعداد اتنی تھوڑی تھی کہ اکثر اوقات ہزاروں دشمنوں کی طرف محض گنتی کے چند فدائی بھجوائے جاسکتے تھے جن میں سے ایک ایک کی جان کا اور پیچھے ان کے ورثاء کا فکر بھی بشدت دامنگیر ہے۔ادھر مدینہ پر قریش اور دیگر قبائل کے حملوں کا خدشہ ہر وقت ہے۔ارد گرد کے قبائل حملوں کی گھر کیاں دے رہے ہیں اور بار بار جنگیں مسلط کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ کسرای جیسے پرشکوہ بادشاہ بھی دھمکا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔نیز انہی حالات میں کئی بادشاہوں اور سرداروں کے سفیر بھی آ رہے ہیں۔وفود پر وفود اتر رہے ہیں اور مہمان نوازیاں بھی ہو رہی ہیں۔قرآن کریم کا بھی نزول ہو رہا ہے اور احکام بھی نازل ہورہے ہیں جن کی تعمیل کے لئے عملی نمونہ بھی دکھایا جارہا ہے۔تدوین قرآن اور حفظ قرآن کا کام بھی ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔تلاوت آیات ، تزکیہ نفس تعلیم کتاب و حکمت بھی مسلسل جاری ہے۔گھر کے کاموں میں بھی مسلسل حصہ لے رہے ہیں اور باہر بیکسوں کے بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔الغرض ہزاروں ایسے کام اور معاملات ہیں جن کا بوجھ صرف اور صرف ایک جان پر ہے۔یہ جان ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی جان ہے جو ہر لحہ بنی نوع انسان کی بہبود اور ان کی بھلائی کے لئے ہلکان ہو رہی ہے۔بالآخران افکار و مصروفیات کہ نتیجہ میں آنحضرت لیے درد سر کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔جس کے علاج کے لئے آپ نے سر میں پچھنے لگوائے۔چنانچہ لکھا ہے: عن ابن عباس رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم في رأسه