شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 250
۲۵۰ کی قید بے فائدہ ہوتی۔اور افضل کے معنے خاتم النبیین کے حقیقی معنوں کو لازم ہیں نہ آخری نبی کے لازمی معنوں کو۔اور النُّبُوَّة کا لفظ صرف خاتم النبیین کے لازمی معنوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہی استعمال کیا گیا ہے جو آخری شارع اور آخری مستقل بنی ہیں۔قرینہ خامسہ ان چاروں قریبوں کے علاوہ اس جگہ ایک اور حقیقت بھی پائی جاتی ہے جو خاتم المہاجرین کے معنے افضل المهاجرین مراد لیے ہیں روک ہے۔وہ حقیقت یہ ہے کہ خاتم کا لفظ جب جمع کی طرف مصاف ہو تو اس مرکب اضافی میں افضلیت کے معنے اس مرکب کے حقیقی معنوں کے لازم معنوں کے طور پر پیدا ہوتے ہیں لیکن جہاں پر ایک ایسا مرکب اضافی صرف مجازی معنوں میں استعمال ہو رہا ہو جیسے خاتم المہاجرین کے الفاظ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں استعمال ہوئے ہیں تو جب اُسے ایسے مرکب اضافی سے تشبیہ دی جائے جو حقیقی معنوں میں بھی خاتم ہے اور لازمی معنوں میں بھی تو اس وقت تشبیہہ صرف لازمی معنوں سے ہوگی۔چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی ذاتی ہجرت کا آئندہ ہونے والی ہجرتوں کے مہاجرین پر کوئی اثر اور افاضہ مقصود نہیں ہو سکتا۔اس لئے خاتم المہاجرین کی تشبیہہ خاتم النہین کے لازمی معنوں سے ہوگی نہ کہ حقیقی معنوں سے۔اسی لئے خاتم النبیین کے ساتھ فی النبوة کی قید لگائی گئی ہے۔تاکہ صریح طور پر تشبیہہ لازمی معنوں سے سمجھی جائے نہ کہ حقيقى معنوى - هَذَا مَا ألقى فِى رَوْعِي وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَ اللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔