شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 251 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 251

۲۵۱ جب یہ بات واضح ہو چکی کہ ان پانچوں قرائن کی وجہ سے خاتم المہاجرین کی تشبیہ خاتم النبیین کے ایک لازمی معنوں سے ہے جو آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہیں۔نیز تشبیہہ صرف صفت کمال میں ہے نہ کہ افضلیت ہیں۔تو خاتم المہاجرین والی حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ اسے چھا ! آپ مطمئن ہو جائیں کہ آپ مکہ سے مدینہ کو ہجرت کرنے والے لوگوں میں سے آخری مہاجر تو ہیں مگر آپ کی یہ ہجرت ناقص نہیں۔بلکہ آپ اس کا پورا ثواب حاصل کرنے والے ہیں جس طرح میں نبوت تشریعیہ اور نبوت مستقلہ کے لحاظ سے آخری نبی ہونے کے باوجود سابق انبیاء کے مقابلہ میں کسی سے کم نہیں بلکہ کامل نبی ہوں " ایک شبہ کا ازالہ اگر کوئی شخص اس جگہ یہ کہے کہ جب خاتم النبیین فی النبوة کے تابع تم نبی کا آنا مانتے ہو تو کیوں خاتم المهاجرین کے تابع بعد کے مہاجرین کو قرار دے کہ خاتم المہاجرین کو ان بعد والوں سے افضل قرار نہ دیا جائے ؟ تمہارے بیان کہ وہ قرائن اگر پہلوں سے افضل ہونے میں روگ ہیں تو بعد کے مہاجرین سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو افضل المہاجرین تسلیم کرنے میں تمہیں کیا عذر ہے ؟ اس سوال کے جواب میں عرض ہے کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ خاتم المہاجرین کے مرکب اضافی میں افضلیت کے معنے صرف اُس وقت تسلیم کئے جاسکتے ہیں جبکہ بعد والے مہاجرین پر خاتم المہاجرین کا اثر منصور ہو سکے ، لیکن بعد کی ہجرتوں کے مہاجرین پر چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی ذاتی ہجرت کا کوئی اثر متصور نہیں ہو سکتا۔اس لئے خاتم المہاجرین کو اس جگہ انفضل المہاجرین کے معنوں میں