شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 249
۲۴۹ ناقص سمجھتے تھے۔اور مقصود امر اس تشبیہہ سے یہ تھا کہ اُن کو اطمینان دلایا جائے کہ اُن کی ہجرت ناقص نہیں بلکہ وہ ہجرت کا پورا ثواب پانے والے ہیں قریبہ ثانیہ پھر طلب امر یہ نہ تھا کہ حضرت عباس مینی اله عن افضل المهاجرين رضی ہیں کیونکہ اس سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور دوسرے کا ہر سحابه معنی الله نه بلکه خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما چکے ہوئے تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم المہاجرین معنی افضل المہا جرین ہونے سے تو کیسی معقول آدمی کو انکار نہیں ہوسکتا۔جب یہ ظاہر ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان بزرگواروں سے ہجرت میں افضل نہیں قرار دیئے جا سکتے تھے تو یہ امر بھی اس بات کے لئے قوی قریہ ہے کہ خاتم المهاجرين في الهجرة اور خاتم النبيين في النبوة میں وجہ شبہ ایک خاص معنوں میں آخری ہونے کے ساتھ محض صفت کمال میں ہے نہ افضلیت ہیں۔کیونکہ جو فرد آخری شارع بنی اور آخری ستقل بنی ہو وہ کامل بنی تو بہر حال ہوگا۔قرینہ ثالثہ ترین تالش خود لفظ الم ہے۔اگر اقلیت میں تشبیه مرد ہوتی تو بلاغت کا تقاضا یہ ہوتا کہ آپ لفظ انشر وغیرہ استعمال فرماتے تسلی تو صرف اُسے دلائی جاتی ہے جسے کمی رہنے کا احساس ہو اور اُسے یہ بتانا مقصود ہو کہ تم اس پہلومیں کم نہ رہو گے - اس جگہ تشبیہ خاتم المهاجرین کو خاتم النبین کے حقیقی قرینہ رابعہ منوں سے نہیں دی گئی بلکہ لازمی معنوں سے دی گئی ہے۔اگر خاتم النبیین کے حقیقی معنوں سے تشبیہہ مقصود ہوتی تو ساتھ فِي النُّبوة