شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 225
۲۲۵ تو ختم کرنے والا نہیں۔اگر یہ لوگ تمام نبیوں کو ختم کرنے والے معنوں کے ساتھ استغراق حقیقی قرار دیں تو اُن کے اپنے عقیدہ میں تضاد پیدا ہو جائے گا۔کیونکہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا تسلیم کرتے ہیں۔پس اس طرح سارے نبی تو ختم نہ ہوئے۔کیونکہ پورے طور پر سب نبیوں کو ختم کرنے کا تقاضا تو یہ ہوگا کہ پہلوں میں سے نہ کسی نبی کی شریعت کا فیض واثر باقی ہو۔نہ اُن کی نبوت کا اثر باقی ہو۔اور نہ اُن کا زمانہ حیات دنیوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدباتی ہو۔پس غیر احمدی علماء جب تک سلام تعریف عهد خارجی یا استغراق عرفی کا مراد نہ لیں۔اس وقت تک اُن کے عقیدہ کا تضاد دور نہیں ہوسکتا۔اور اگر تمام نبیوں کو ختم کرنے والا معنی نہ کریں بلکہ نبیوں میں آخری شارع اور آخری مستقل بنبی یا شارع اور نقل نبیوں کو ختم کرنے والا نبی مراد لیں تو پھر تضاد تو دور ہو جاتا ہے مگر یہ معنے امتی نبی کی آمد کو ممتنع قرار نہیں دیتے۔میری تحقیق کے لحاظ سے واضح ہے کہ کام استغراق حقیقی کا صرف خاتم الی تین کے حقیقی معنوں میں ہی مراد ہو سکتا ہے۔چونکہ آخری نبی اور نبیوں کا ختم کرنے والا معنی بھی ہم بدلالت التزامی اس مخصوص صورت میں کہ آپ آخری شارع اور مستقل نبی ہیں۔اور شارع اور مستقل انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں تسلیم کرتے ہیں اس لئے ان لازمی معنوں کے لحاظ سے الف لام استغراق عرفی یا عبر خارجی کا ہی ہو سکتا ہے۔حقیقی معنوں کے ساتھ استغراق حقیقی اور لازمی معنوں کے ساتھ استغراق عرفی یا عہد خارجی کا لام تعریف ہی خوب مناسب ہے۔: