شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 226 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 226

۲۲۶ الف لام عہد ذہنی کا اس جگہ نہ ہمیں مسلم ہے نہ غیر حدی علماء کو، کیونکہ د بعض غیر معین افراد موجودہ کے لئے ہوتا ہے۔پس یہ صورت لام تعریف کی اس جگہ مخارج از بحث ہے۔خانم کا استعمال حدیث نبوی میں ! ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے :- آمِينَ خَاتَمُ رَبِّ الْعَلَمِينَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الْمُؤْمِنِينَ دنهایه این اثر حاشیه کشاف مصری محقی محمد الیان و فردوس دیلی ) یعنی آئین رب العالمین کی مہر ہے جو اس کے مومن بندوں پر لگتی ہے۔اب آپ صاحبان خود فرما لیں کہ دُعا کے بعد آمین کہنے سے آمین کی جو مہر رب العالمین کی طرف سے اس کے مومن بندوں پر لگتی ہے کیا اُس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ اس شہر کے لگنے پر خدا کے مومن پیدا ہونے بند ہو جاتے ہیں۔کوئی معقول آدمی اس جگہ یہ معنے درست قرار نہیں دے سکتا۔(1) خاتم کا رب العالمین کی طرف مضاف ہونا بتاتا ہے کہ اس جگہ خاتم کے معنوں میں فیضان ریوبیت مد نظر ہے۔اور ربوبیت کا یہ شیعیان اس طرح ہوتا ہے کہ آئین کے اندر اس سے پہلے مانگی گئی دُعا کے تمام نقوش ہو اسْتَجِبْ لنا (ہماری یہ دعا قبول کہ) کی صورت میں پائے جاتے ہیں رب العالمین کے ہاتھ میں مہر بن جاتے ہیں۔اور جب یہ مہر مومن بندوں پر لگتی ہے تو وہ نقوش جن پر آمین مشتمل ہوتی ہے دعا کی قبولیت کی صورت میں مومن بندوں