شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 53
۵۳ ہے۔مگر ان پر دو حدیثوں کی موجودگی میں اس بات کی وجہ خود مولوی محمد ادریس صاحب اور اہمچو قسم علماء سوچ لیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ حضرت ابو بکرہ تمام امت سے افضل ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی پیدا ہو تو پھر امت محمدیہ کے اندر ظاہر ہونے والا نبی تو بہر حال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے افضل ہی ہو گا۔نبوت ایک موہبت الہی ہے۔اس کا منصب ضرورت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا کرتا ہے۔یہ منصب کسب سے حاصل نہیں ہوتا۔پس اس منصب کے پانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اس کی علت تامہ نہیں کہ معلول دیعنی منصب کا پایا جانا اس علت کے پایا جانے کے ساتھ ضروری ہو۔بلکہ صرف شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ہاں اس کامل پیروی کی وجہ سے حضرت ابو بکر رمہ کو بھی کمالات و انوار نبوت سے حصہ داخر ملا تھا۔مگر وہ مامور نہ تھے۔ماموریت کا مقام حسب حدیث نبوی است درجہ مسلم باب خروج الدقبال صرف مسیح موعود کے لئے مقرر ہے کیونکہ انہی کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے۔چونکہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو کمالات نبوت سے حصہ وافر ملا تھا اس لئے حضرت مجدد الف ثانی نے تو انہیں کمالات کے لحاظ سے انبیاء میں ہی شمار کیا ہے۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں : " ایں ہر دو بزرگوار از بزرگی و کلانی در انبیاء معدود اند و۔بفضائل انبیاء محفوف ، مکتوبات جلد اول ما ۲۵ مکتوب عل۲۷)