شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 52 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 52

۵۲ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے يكون سبی کے الفاظ فرمائے ہیں۔يكون مضارع کا صیغہ ہے جس کا تعلق آئیندہ زمانہ میں ہونے والے نبی سے ہے۔جس کو نبوت آئیندہ زمانہ میں حاصل ہوگی۔علاوہ ازیں گون کے معنے عدم سے وجود میں آنا ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت تو آئیندہ عدم سے وجود میں نہیں آئے گی۔اس لئے سکون کا لفظ ایسے نبی کے متعلق ہی ہو سکتا ہے جس کی نبوت آئیندہ زمانہ میں عدم سے وجود میں آنے والی ہو۔ماسوا اس کے حدیث کے سیاق میں حضرت ابو بکر کا امت کے افراد سے تقابل مد نظر ہے اس لئے ان سکون نبی کا تعلق بھی امتی نبی سے ہو سکتا ہے۔نہ کسی منتقل نبی سے۔کیونکہ مستقل نبی کی آمد تو خاتم النبیین کے منافی ہے۔اور اس پر ساری امت کا اجماع ہے۔حضرت ابوبکر کا مرتبہ مسیح موعود اُن سے کیوں فضل ہیں ؟ مولوی محمد ادریس صاحب شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ نے اپنی کتاب "ختم النبوة" میں اس بات پر جذباتی پہلو سے بڑا زور دیا ہے کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے نبوت کو جاری مانا جائے تو حضرت ابوبکر یہ کیوں نہیں نہ بنے۔وہ تو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے کامل مشبع تھے ؟ اس کے متعلق عرض ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابو بکرہ کا مقام امت محمدیہ میں بہت بلند