شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 54
AM ہاں امام ابن سیرین علیہ الرحمہ نے غالباً ان دوحد بیٹوں کے پیش نظر ہی جن میں الا ان يكون نبی کے الفاظ آتے ہیں۔فرمایا ہے :- يكون في هذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيفَةً خَيْرٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ قِيلَ خَيْرٌ مِنْهُمَا قَالَ قَدْ كَادَ يَفْضُلُ عَلَى بَعْضِ الأنبياء - (حجج الكرامه مش۳ ) یعنی اس اُمت میں ایک خلیفہ ہوگا جو ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے بھی بڑا ہو گا اس پر آپ سے پوچھا گیا کہ وہ ان دونوں سے بھی بڑا ہوگا ؟ تو امام ابن سیرین نے جواب دیا کہ قریب ہے کہ وہ تو بعض نبیوں سے بھی بڑھ جائے " اب یہ خلیفہ بر مسیح موعود اور مہدی معہود کے اور کون ہو سکتا ہے۔اور حضرت علونیہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے اس کا بڑا ہونا جب پہلے سے مسلم ہے تو حضرت مسیح موعود علی سلام کو کیوں امت محمدیہ کے خلفاء سے بوجہ ماموریت بر منصب نبوت غیر مستقلہ افضل نہ سمجھا جائے ؟ مولوی محمد ادریس صاحب کی غلط فہمی متعلق حديث إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بِى بَعْدِى مولوی محمد ادریس صاحب نے حدیث الَا تَرْضى أَنتَ مِنِى بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُّوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِي بَعْدِی (بخاری غزوہ تبوک) پیش کر کے لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق مستقلہ نبوت کا تو دہم بھی نہیں ہو سکتا تھا۔لہذا اس جگہ لا نبی بعدی میں نبوت غیر مستقلہ کی