شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 245
۲۴۵ چنانچہ اصابہ جلد ۳ ماہ میں ہے هَاجَرَ قَبْلَ الْفَتِمِ بِقَلِيلِ وَشَهِدَ الْفَتْمِ کہ حضرت عباس نے فتح مکہ سے تھوڑا عرصہ پہلے ہجرت کی۔اور وہ فتح مکہ کے وقت مہاجرین میں موجود تھے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جب آخر میں ہجرت کی تو انہیں احساس پیدا ہوا کہ میری ہجرت پو را ثواب نہ پانے کے لحاظ سے ناقص رہی ہے۔کیونکہ میں نے آخر میں ہجرت کی ہے۔اس سے وہ بہت پریشان تھے۔اور گھبرا رہے تھے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا : اطْمَئِنَ يَا عَةِ فَانَّكَ خَاتَمُ الْمُهَاجِرِينَ فِي الْهَجْرَةِ كَمَا أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ فِي النُّبُوَةِ " كنز العمال جلد مكا) یعنی اسے چھا ! آپ مطمئن ہو جائیں کیونکہ آپ ہجرت میں خاتم المہاجرین ہیں جیسے میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں۔اس حدیث کو پیش کر کے غیر احمد علماء کہتے ہیں کہ چونکہ حضرت عباس آخری مہاجر تھے اور رسول اله صل اللہ علیہ سلم نے ان کو آخری مہاجر ہونے کے لحاظ سے خاتم المہاجرین قرار دے کر اپنے خاتم النبیین ہونے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔لہذا معلوم ہوا کہ آنحضرتصلى اله علیہ سلم بھی خاتم النبین معنی حتی آخری نبی ہیں ند که معنی افضل النبيين - یکی قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی معنوں میں بھی خاتم النبیین ہیں جو جامعیت کمالات انبیاء اور تاثیر اور انامہ روحانیہ ہیں۔ان معنوں کے علاوہ آپ آخری نبی کے معنوں میں بلحاظ آخری شارع اور آخری مستقل بنی ہونے