شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 246 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 246

۲۴۶ کے آخری نبی بھی ہیں۔یہ خاتم النبیین کے لازمی معنی ہیں جو بدلالت التزامی ثابت ہیں پھر خاتم النبیین کے حقیقی معنی کے مفہوم میں افضلیت کے معنے بھی شامل ہیں اور آخری نبی کے لازمی معنوں کے ساتھ صرف حقیقی معنوں کی وساطت سے جمع ہیں۔اس حدیث میں خاتم النبیین کے آخری نبی صرف لازمی معنی مراد ہیں۔اور ان لازمی معنوں سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آخری مہاجر ہونے کو تشبیہ دی گئی ہے نہ کہ افضلیت کے معنوں میں جو خاتم النبیین کے حقیقی معنوں " نبوت میں موثر وجود کے ایک دوسرے لازمی معنی ہیں۔خاتم المهاجرین والی حدیث کا سیاق اس حدیث کے سیاق سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قول سے مقصود حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو یہ اطمینان دلانا تھا کہ تمہاری ہجرت ناقص نہیں بلکہ تم ہجرت کا پورا ثواب حاصل کرو گے۔گو تم واقعہ کے لحاظ سے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے آخری فرد ہو جس طرح میں آخری شارع اور آخری مستقل بنی ہوں۔سیاق کلام بناتا ہے کہ اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ہجرت میں محض آخری فرد قرار دنیا نہ تھی۔ایسا تو وہ خود اپنے آپ کو خیال کر رہے تھے۔اور اپنے تئیں آخری مہا جو سمجھنے کی وجہ سے ہی تو وہ پریشان ہو رہے تھے کہ میری ہجرت ناقص رہ گئی ہے۔اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُن کو مہاجرین کا محض آخری