شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 244 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 244

۲۴۴ پھر جس طرح خاتم النبیین کے حقیقی معنوں کے ساتھ آخری نبی کے معنی بطور لازمی معنوں کے جمع ہیں ویسے ہی خاتم الخلفاء کے حقیقی معنوں کے ساتھ آخری خلیفہ کے لازمی معنے بھی جمع ہیں۔خاتم النبیین کے یہ لازمی منے یہ مفہوم رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع اور آخری مستقل بنی ہیں نہ کہ مطلق آخری نبی۔اسی طرح خاتم الخلفاء کے لازمی سنے یہ ہیں کہ مسیح موعود وہ آخری خلیفہ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کے واسطہ سے مقام خلافت پایا ہے۔چونکہ آپ حقیقی معنوں میں خاتم الخلفاء ہیں اس لئے آئندہ اس مقام کو پانے کے لئے مسیح موعود کا واسطہ شرط ہو گا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ اسلام نے مسیح موعود کے دمشق کے مشرق میں منارة البیضاء کے پاس نزول کے بیان پر عمل حدیث کی تشریح میں فرمایا ہے :- ثمَّ يُسَافِرُ المَسِيحُ المَوْعُودُ أَوْخَلِيفَةً مِنْ خُلَفَائِهِ إلى أَرْضِ دمشق " (حامة البشرى ما ) یعنی مسیح موعود خود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ سفر کر کے دمشق میں جائیگا اور منارۃ البیضاء کے پاس بحیثیت نزیل اُترے گا۔اس سے ظاہر ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کے خلفاء ہوں گے۔یہ پیشگوئی ء میں ضرت امیرالمومنین خلیفہ ایسی الثانی کے سفر مشق سے ۱۹۲۳ پوری ہوئی۔فالحمد لله على ذلك خَاتَمُ الْمُهَاجِرِينِ والی حدیث نبوی کی تشریح حضرت عباس مینی اللہ عنہ نے مکہ سے مدینہ منورہ کو آخر میں ہجرت کی۔