شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 17 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 17

16 المبشرات والے حصہ نبوت کو باقی قرار دے کر دوسری قسم اور حصہ کو جوس تنقلہ نبوت اور تشریعی نبوت ہے منقطع قرار دیا ہے۔ویسے ہی قرآن مجید میں خاتم النبیین کے معنے کے ان دونوں صنفی اور مثبت پہلوؤں پر دو آیتیں روشنی ڈال رہی ہیں۔آیت اَلْيَوْمَ المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (سوره مائده رکوع اول) یعنی آج تم پر دین کو کامل کر دیا گیا ہے اور (دین کے لحاظ سے) تم پر نعمت پوری کر دی گئی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا گیا ہے " کا مضمون انت محمدیہ میں شارع اور ستنقل نبی کی آمد کی بندش پر دلالت کر رہا ہے۔کیونکہ اس آیت کے بیان کے رو سے شریعیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کمال نام کو پہنچ گئی ہے۔لہذا اب اس شریعت کا ملہ نامہ کے بعد کسی جدید شریعت کی تاقیامت ضرورت نہیں۔لہذا اب کوئی شارع نبی نہیں آسکتا۔پھر چونکہ شریعت اب کامل ہو چکی ہے۔اس لئے باقی کمالات نبوت جو شریعیت کے علاوہ نبی کو حاصل ہوتے ہیں چونکہ ان کے حاصل کرنے کے لئے اب شریعت محمدیہ کی پیروی شرط ہوگی اس لئے اب کوئی مستقل اور آزاد غیر تشریعی بی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔جو شخص بھی کوئی کمال کمالات باقیہ میں سے حاصل کرے گا وہ شریعت محمدیہ کی پیروی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ رومانیہ سے ہی حاصل کرے گا۔یعنی نبیکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوائے سے آزاد رہ کر اب کوئی روحانی کمال کسی شخص کو از روئے تعلیم قرآن مجید حاصل نہیں ہو سکتا اس طرح یہ آیت آیت خاتم النبیین کے منفی پہلو کو بیان کر رہی ہے۔: