شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 16 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 16

L 14 نبی کا نام دیتا ہے۔چنانچہ سول کریم صلی اللہ علی وسلم نے امت محمدیہ کے مسیح موعود کو نبی اللہ راسی نبوت عامہ کے علی وجہ الکمال پانے کی بناء پر قرار دیا ہے۔حديث لم يلقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا المُبَشِّعَرَاتُ در اصل آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی زبان مبارک سے آیت خاتم النبیین کی ایک لطیف تغیر ہے۔اس حدیث میں ہنحضر صلی اللہ علیہ ولم نے خاتم النبیین کے معنی کے دو پہلو بیان فرمائے ہیں۔اور ان چھ لفظوں میں دریا کو گویا گوزہ میں بند کر دیا ہے۔حدیث ہدا کے پہلے چار الفاظ لم يبقَ مِنَ النُّبوة خاتم النبیین کے معنے کے منفی پہلو پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ شریعت جدیدہ والی نبوت اور آزاد اور مستقل نبوت آپ کے بعد منقطع اور بند ہے۔اور إِلَّا الْمُبَشِرَاتُ کے دو لفظوں میں خاتم النبیین کے معنے کا مثبت اور فیض رسانی والا پہلو بیان فرما دیا ہے۔کہ صفہ المبشرات والی نبوت یا المبشرات کا حصہ نبوت ، نبوت میں سے اُمت کے لئے باقی ہے جو صرف آپ کی شریعیت کی پیروی اور آپ کے افاضہ روحانیہ سے آپ کی اُمت کو مل سکتا ہے۔قرآن مجید اور خاتم النبیین کے دو پہلو ہیں طرح اس حدیث میں آنحضرت صل اللہ علیہ سلم نے خاتم النبیین کے معنی کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے نبوت میں سے صرف المبشرات والی نبوت یا