شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 18
IA دوسری آیت مَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ : أُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ انعم اللهُ عَلَيْهِ مِنَ النَّبِينَ وَالمَا يُقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ دسورہ نساء رکوع ۹، خاتم النبیین کے معنوں کے مثبت پہلا کو بیان کر رہی ہے۔جو خاتم النبیین صلی الہ علیہ وسلم کے اس رتبہ کا انسانی کا پہلے کیونکہ یہ این انترنت صلی اللہ علیہ ولی کی اطاعت کرنے والوں کے متعلق بیان کرتی ہو کہ وہ انعام پانیوالے پچھلے نبیوں صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہیں۔اس آیت کی پوری تفصیل مضمون مضمون کے حصہ دوم میں بیان کی بارہ ہی ہے ، صالحیت ، شہادت ، صدیقیت کے علاوہ جو نبوت امت محمدیہ کو بموجب آیت مندرجہ بالامل سکتی ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ہی مل سکتی ہے۔یہ وہ المبشرات والی نبوت ہی ہے جو مکالمہ مخاطبه مشتمل بر امور غیبیہ کا دوسرا نام ہے جسے حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ نے حدیث إلا المبشرات کے مطابق تا قیامت جاری لکھا ہے اور ایسی نبوت کے حامل کا نام بی الاولیاء رکھا ہے۔لمبشرات بحضر صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک نبوت ہی ہیں ! آپ معلوم کر چکے ہیں حدیث نبوی الم يبقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمَشِرَاتُ کی رو سے ثبوت مطلقہ کی آیات تم المبشرات یا نبوت تامہ کا ملہ محمدیہ کا ایک حمتہ جو المبشرات ہیں امت محمدیہ کے لئے تا قیامت باتی ہے۔شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ اور دیگر صوفیاء اور علماء ربانی نے اسے نبوت ہی قرار دیا ہے۔ہاں انہوں نے اسے تشریعی نبوت سے ایک الگی قسم کی نبوت قرار دیا ہے۔نبوت تشریعیہ کا دروازہ تو آنحضرت صلی الہ علیہ و تم