شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 151
۱۵۱ بلکہ یہ خدا کی دی ہیں۔اور خدا تعالے خوب جانتا ہے عوام الناس سے چھپانے کے لئے صوفی اسے دل کی وحی کہہ دیتے ہیں۔د مثنوی دفتر چهارم ماها) خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت کی موعود علیہ السلام پر گر امر ونہی والی وحی بطور تجدید دین اور بیان شریعیت نازل ہو تو اس سے شریعت جدیدہ کا دعوی لازم نہیں آتا۔شریعیت جدیدہ کے مدعی کو تو ترمیم وتنسیخ کا حق ہوتا ہے مگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام تو صاف فرماتے ہیں :- ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔تاہم خدا تعالے نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیاکہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریو نے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔جھوٹی گواہی نہ دو۔زنانہ کرد خون نہ کرو۔اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔“ ( اربعين مث ) یہ وہ عبارت ہے جسے مولوی محمد شفیع صاحب نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیا تاکہ حقیقت پر پردہ پڑا رہے۔اور وہ بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام پر شہ بیت جدیدہ لانے کے دعوئی کا الزام لگا سکیں۔میں بتا چکا ہوں کہ شریعیت جدیدہ کا دعوی خالی امر و نہی کے الہام نازل ہونے سے لازم نہیں آتا۔امرد نہی کا نزول توسیع موجود پر ہونا بزرگان دین کو مسلم ہے ، جیسا کہ قبل انہیں