شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 150
۱۵۰ انبیاء کے تابعین بطریق الہام جو علوم اصل سے اخذ کرتے ہیں اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ الہام وحی کی قسم نہیں ہے بلکہ الہام کا لفظ وحی کے مقابل صرف غلط فہمی سے بچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اُسے وحی تشریعی نہ سمجھ لیں۔ورنہ حقیقت میں یہ الہام وحی غیر تشریعی ہی ہوتا ہے۔خواہ علوم شریعیت بینی اوامر و نواہی پر نبی مشتمل ہو۔یا امور غیبیہ پہ۔الہام الہی وحی ہے چنانچہ سید اسمعیل صحب شہیدہ منصب مامت پر فرماتے ہیں :- باید دانست از انجله الہام است ہمیں الہام که با نبیاء الله ثابت است آنرا و می گوئند و اگر بغیر ایشان ثابت میشود اور تحدیث نے گوئند وگا ہے در کتاب الله طلق الهام خواہ باغیار ثابت می شود خواه باولیاء اللہ وحی نامند یعنی خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک الہام بھی ہے۔یہی الہام جو جو انبیاء کو ہوتا ہے۔اس کو وحی کہتے ہیں۔اور جو انبیاء کے غیر کو ہوتا ہے تو اس کو تحدیث کہتے ہیں کبھی مطلق الہام کو خواہ انبیاء کو ہو یا اولیاء کو قرآن مجید کے رو سے دجی کہتے ہیں۔حضرت مولانا جلال الدین رومی ” فرماتے ہیں۔Q نے نجوم است و نه ریل است نه خواب وفي حتى والله اعلم بالصواب از پے روپوش عامه در میال وحی دل گویند او را صوفیاں یعنی جو باتیں اوپر کہی گئی ہیں یہ نجوم ، رمل اور خواب کی باتیں نہیں