شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 9
9 بانی سلسلہ احمدیہ کا ما مرتب اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ صمدیہ علی اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقابل کی منتقل اور آزاد مرتبہ کا کوئی دعوی نہیں بلکہ آپ کے نزدیک حضرت خاتم النبی صلی اللهعلیہ وسلم ہ ہر فیض کا سرچشمہ اور ہر فضیلت کی کلید ہیں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا اپنا عمومی صرف یہ ہے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کاملہ کی پیروی اور آپؐ کے فیض کی برکت سے خدا تعالیٰ سے مکالمہ مخاطبہ شتمل بر امور غیبیہ کثیرہ کی نعمت کا شرف پایا ہے۔اور آپ تجدید دین کے لئے مامور ہیں۔۔مکالمه مخاطبه البیته مشتمل بر مر غیبیہ کی صحت کا علی وجہ الکمال آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی امت کو ملنا ہی ایک ایسا شرف ہے جس سے یہ امت دوسری امتوں کے مقابلہ میں خیر امت قرار پاتی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں ہے ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اسے خیر یہ سل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے مکالمہ مخاطبہ الہیہ کی نعمت تو بنی اسرائیل کی عورتوں کو بھی ملتی رہی ہے۔چنانچ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کو یقینی و قطعی الہام الہی سے مشرف کیا گیا۔اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام پر جبریل اور دوسرے ملائکہ وحی لیکر نازل ہوتے رہے جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔پس اگر ات محمية معالم مخاطبه البیہ نام کاملہ کی اس سے محروم ہوتی تو پھر خداتعالی کیوں فراما كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔خُدا تعالیٰ کی صفات تو ازلی ابدی