شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 10
ہیں۔اور اس کی قدرتیں اور کمالات لازوال او تعطل سے مبرا ہیں۔پس اگر خدا تعالی پہلے بولتا تھا تو یہ ناممکن ہے کہ اب اس کے بولنے کی صفت ہمیشہ کے لئے معطل ہو جائے۔دوسرے مذاہب اب زندہ کہلانے کے اسی لئے تو حقدار نہیں کہ ان مذاہب کے ماننے والوں میں اب کوئی شخص مکالمہ مخاطبہ الہیہ قطعیہ یقینیہ کے شرف سے مشرق نہیں ہوتا۔اگر اسلام میں بھی یہ دولت نصیب نہ ہو سکتی تو پھر ہم بھی قصہ گو ہی ٹھہرتے۔پھر اسلام کو دوسرے ادیان پرخدا تعالیٰ سے روحانی مراتب قرب کا تعلق پیدا کرانے کے لحاظ سے کوئی فخر نہ ہو سکتا۔نیں حق بات ی ہے کہ معاملہ خطبہ الہیہ کا اشرف اسلام کے زندہ مذہب اور آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے زندہ اور کابل اور مکمل ( کامل کرنے والا ) نبی ہونے کا ایک روشن ثبوت دے ہے۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نبض رسانی کا تو عین مقتضی یہ ہے کہ آپ کی پیروی سے آپ کے امتیوں کے لئے مکالمہ مخاطبہ الہیہ کی نعمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ر ہے۔بلکہ آپ کی امت کو پہلوں سے بھی بڑھ کہ یہ نعمت ملے۔ورنہ اگر خاتم النبیین کے مقام کو مکالمہ مخاطیہ الہیہ کے دروازہ کو بند کرنے کا موجب قرار دیا جائے تو ہیں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور امت محمدیہ کی صریح بہتک ہے۔کیونکہ معاملہ مخاطبہ الہیہ تو قریب الہی کی ایک علامت ہے۔اگر یہ بند ہو تو گویا امت محمدیہ قرب الہی سے محروم ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معاذ اللہ اسے محروم کرنے والے ٹھہرتے ہیں۔پس خاتم النبیین کی آیت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محل مدح میں نازل ہوئی ہے، وہ تو آپ کی فیض رسانی کا کمال ظاہر کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے۔پھر مکالمہ مخاطبہ المبيد مشتمل بر امور غیبیہ تو خدا تعالے کی