شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 5
A کا یہ مقام اور مرتبہ ہی تمام عالم اور کائنات کے ظہور کی علت نائیہ ہے جس قدر انبیاء اور اولیاء ابتدائے آفرینش سے اس وقت تک پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک پیدا ہوں گے اُن سب کے ظہور میں شان خاتم النبیین بطور علت غائیہ کے موثر ہے۔اور یہ سب بزرگوار خاتم النبیین کے آفتاب عالم تاب کے نقطہ نفسی کی شعاعوں کے ہی پر تو اور مظاہر ہیں۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہ نفسی اس وقت بھی بطور علت غائیہ کے موثر تھا جبکہ آدم علیہ السلام کا ابھی پانی اورسٹی میں خمیر اٹھ رہا تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فرماتے ہیں :۔كنت مكتوبا عِنْدَ اللَّهِ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَأَنَّ أَدَمَ لَمَسْجِدِل بين الماء والطين (مسند احمد بن حنبل و کنز العمال جلد ۶ مثلا ) کہ میں اس وقت بھی اللہ تعالے کے حضور خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جبکہ آدم ابھی پانی او کیچڑ میں لت پت تھا۔ختم النبین کا فیضان المگیر بانی سلسلہ احمدیہ کی نگاہ میں ! چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علی الاسلام حقیقت محمدیہ کے بیان میں آیت قرآنیہ دنى فَتَدَ لَى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی کے مقام کی تفسیر کرتے ہوئے جو دراصل خاتم النبیین کی ہی شان کا ایک دوسرے پیرا یہ میں قرآنی بیان ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو توسین کی قاب (وتر ) کا مرکزی نقطہ قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :- بجز ایک نقطہ مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں اُن میں دوسرے انبیاء