شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 31 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 31

جھے فرشتہ لیکر نازل ہوتا ہے۔نزول فرشتہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔یعنی فرق صرف تشریعی اور غیر تشریعی وحی کا ہوتا ہے۔فرشتہ کے اُترنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علی الرحمة خدا تعالیٰ کے قول ان الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ۔۔۔۔۔الآية رحم السجده (۴۴) کی تفسیر میں فتوحات محبة جلد ۲ ۲۳۲ باب معرفة الاستقامة میں لکھتے ہیں :- هذا اللتزيل هُوَ الكبرة العامة لا تبوةُ التَّشْرِيم۔استقامت دکھانیوالوں پر یہ فرشتوں کا کلام کے ساتھ اتر نا نبوت عامہ ہی ہے۔نہ که نبوت تشریعی - غیر تشریعی نبی کی دی خلتی نہیں ہوتی آج کل کے بعض علماء اس غیر تشریعی الہام اور وحی کو محض ظنی قرار دیتے ہیں نہ کہ یقینی۔لیکن اگریہ دمی خلقی ہوتی ہے نہ کہ یقینی تو پھر استقامت دکھانے والوں پر جو فرشتے نازل ہوتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ تم کوئی خوف اورغم نہ کرو اور تبت کی بشارت پاؤ۔تو اس سے انہیں کی تسلی ہو سکتی ہے۔یہ دتی تو پھر اصطفاء اور اجتباء کی بجائے ایک قسم کا ابتلاء بن جائے گی۔حالانکہ خداتعالی تو ملائکہ کے ذریعہ نسلی دینے کے لئے یہ وحی نازلی کرتا ہے۔پیس نبوت عامہ حاصل کرنے والے نبی کی وحی اگر قطعی اور یقینی نہ ہو تو پھر اس سے کوئی اطمینان اورستی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ جو وحی شک کو دور کر کے یقین پیدا نہ کر سکے وہ کیا تسلی دے گی۔حالانکہ خدا تعالیٰ آیت کو