شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 30
یعنی تشریعی نبوت کے مقام کا کوئی اثر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باقی نہیں۔سوائے اس اثر کے جو ائمہ مجتہدین میں اجتہاد کی صورت میں پایا جاتا ہے۔پھر آگے چل کر نبوت کی انہی دو قسموں کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت امام عسید - الوہاب شعرانی و تحریر فرماتے ہیں :- امامان مطلَقَ النُّبُوَّةِ لَمْ تَرْتَفِعُ وَإِنَّمَا ارْتَفَعَ نُبُوَّة ر التشريع واليواقيت والجواهر ساده ۲۶ و ۳۵ بلحاظ ایڈیشن مختلفه ) " یعنی جان او مطلق نبوت نہیں ابھی بند نہیں ہوئی ، صرف تشریعی نبوت منقطع ہو ئی ہے۔پس ایک کم کی نبوت معمار بانی این کے نزدیک است محمد میں حضرت صلی الہ علی وسلم کے بعد ہاتی ہے۔اور یہ بموجب حدیث نبوى لم يبقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ صرف المبشرات والی نبوت ہی ہے نہ کچھ اور۔ایک غلط فہمی کا ازالہ مام عبدالوہاب شعرانی کی مرد پلی قسم کے ہی پہ اور ملکی کے نازل نہ ہونے سے یہ نہیں کہ ایسے نبی پر فرشتہ نازل ہی نہیں ہوتا۔بلکہ ان کی مراد جیسا کہ میں نے خطوط وحدانی میں لکھکر بتایا ہے صرف یہ ہے کہ ایسے نبی پر رشتہ شریعیت جدیدہ لے کر نازل نہیں ہوتا۔چنانچہ وہ حضرت محی الدین ابن عربی علیہ لرحمہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں :- وَالْحَقُّ ان الكلام في الفَرْقِ بَيْنَهُمَا إِنَّمَا هُوَ فِي كَيْفِيَّةِ مَايَنزِلُ ۹۵ بهِ المَلَكُ لَا فِي نُزُولِ الْمَلكِ (الیواقیت والجواہر جلد ۲ (12) یعنی سچی بات یہ ہے کہ دونوں قسم کے نبیوں کے درمیان فرق صرف اس چیز کی کیفیت میں ہوتا ہے۔