شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 32 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 32

۳۲ ان کے لفظ سے شروع کرتا ہے جو کہ حملہ کے مضمون کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ما ہوا اسکے حضرت امام عبد الوہاب شعرانی پہلی قسم کے نبی پر جو می نازل ہوتی ہے اس کو ایسی قطعی اور یقینی قرار دیتے ہیں کہ اس کے ذریعہ ان روایات کی بھی غلطی نکالی جاتی ہے جو از روئے سند صحیح بھی گئی ہوں۔پس جب اس نبی کی وحی اس طرح سند صحیح روایت پر بھی اُن کے نزدیک حکم ہو سکتی ہے تو اس کے قطعی اور یقینی ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔علاوہ ازیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں جو المبشرات سے تعلق رکھتی ہے وارد ہے: وَمَا كَانَ مِنَ النُّبُوَةِ فَإِنَّهُ لَا يَكْذِبُ (مشكوة باب الرؤيا ) کہ المبشرات چونکہ نبوت کا حصہ ہیں اس لئے انہیں جھوٹا نہیں قرار دیا جاسکتا۔پس المبشرات کا قطعی ہونا قرآن ، حدیث اور اقوال بزرگان دین سے ثابت ہے۔جب وہ سچی ٹھہریں تو قطعی اور یقینی ہوئیں نہ کہ طبی اور غیر یقینی۔انی سلام کے نزدیک تم تو کی حقیقت اپنے دو کیفیت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام تحر یہ فرماتے ہیں :- و النبوة قد انقَطَعَتْ بَعْدَ بَيْنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم وَلا كِتابَ بَعْدَ الْفُرْقَانِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ الصحفِ السَّابِقَةِ وَلَا شَرِيعَةَ بَعدَ الشَّرِيعَةِ المُحَمَّدِيَّةِ - بَيْد أنِّي سَمِيْتُ نَبِيَّا عَلَى لِسَانِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ - وَذَلِكَ امْرُ ظِلَى مِنْ بَرَكَاتِ النهدي