شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 222 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 222

۲۲۲ نہیں آتا اس لئے میں اس کے متعلق بحث کو چھوڑتا ہوں۔اب اگر خاتم النبیین کا نام تعریف عہد خارجی کا لیں تو اس سے مراد انبیاء کے معین افراد ہوں گے۔جنہیں متکلم اور سامع دونوں کسی خارجی قرینہ سے جانتے ہوں۔خاتم النبیین کا لام تعریف حضرت امام علی القادری علیہ الرحمستر اور دیگر بزرگان ملت کے معنوں اور عقیدہ کے لحاظ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع اور آخری مستقل بنی ہیں بلکہ تمام غیر احمدی علماء کے عقیدہ کے لحاظ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کے قائل ہیں۔صرف عید خارجی یا استغراق عرفی کا ہی مراد ہو سکتا ہے۔یہ لام تعریف يَقْتُلُونَ النبین کے لام تعریف کی طرح ہے۔کیونکہ یہودیوں نے سب نیوں کو قتل نہیں کیا بلکہ بقرینہ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ أَن کے ہاتھ سے بعض انبیاء کا قتل ہی مراد ہو سکتا ہے۔جب غیر احمدی علماء حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کے قائل ہیں تو خاتم النبیین اور خاتم النبیین کی دونوں قراتوں کے مشترکہ مفہوم کے لحاظ سے اگر الف لام استغراق حقیقی کا اور معنی اس کے تمام نبیوں کو ختم کرنے والا مراد لیں تو پھر شیخ کی آمد محال ٹھہرتی ہے۔کیونکہ انہیں ختم شدہ ماننا پڑتا ہے۔اس لئے خاتم النبیین کے معنی ختم کرنے والا ہے کہ انہیں الف لام عہد خارجی کا مانے بغیر کوئی چارہ نہیں۔غیر احمدی علماء میں سے مولوی محمد شفیع صاحب دیوبندی اور مولوی محمد ادریس صاحب نے اس جگہ لام تعریف کے استغراق حقیقی کا ہونے پر زور دیا ہے۔مگر انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ دونوں قراتوں کے مشترکہ مفہوم کے لحاظ سے