شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 223
۳۳۳ الف لام استغراق کا مراد لے کر پر حضرت میں عالم اسلام کی آمد و محل قرار پاتی ہے۔پس یہ لوگ منہ سے گو کہیں کہ ہم اس جگہ استغراق حقیقی تسلیم کرتے ہیں لیکن اُن کے عقیدہ کے لحاظ سے یہ بات حقیقت سے بہت بعید ہے۔اُن کے عقیدہ کے لحاظ سے تو آنحضرت صلی اللہ علہ وسلم صرف مخصوص انبیاء کو ختم کرنے والے قرار پاتے ہیں۔لہذا عام تعریف اُن کے عقیدہ کے لحاظ سے عہدِ خارجی یا استغراق عربی کا ہی ہو سکتا ہے ہاں ہمارے عقیدہ کے لحاظ سے نام تعریف استغراق حقیقی کا ہوگا کیونکہ خاتم النبیین کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہیں۔اور آپ کی تاثیر اور افاضہ سے ہی تمام انبیاء مقام نبوت پانے والے ہیں۔سابقہ انبیاء اگر آپ کے نقطہ نفسی کی تاثیر سے براہ راست یعنی بغیر پیروی شریعت محمدیہ کے مقام نبوت پر پہنچے ہیں تو آئندہ پیدا ہونے والے نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ آپ کی شریعیت کی کامل پیروی اور آپ کے افاضہ روحانیہ کی تاثیر سے بطور موہبت مقام نبوت پانے والا ہو۔یہ امر آپ کی جامعیت کمال کو چاہتا ہے۔آپ کی ختم نبوت اگر آپ کے وجود میں جامعیت کمالات نبوت میں انتہائی مقام پر پہنچنے میں موثر ہے تو دوسروں کے لئے فیضان کے لحاظ سے موثر ہے۔خواہ وہ نبی مستقل نبی ہوں یا غیر مستقل۔اس طرح کوئی فرد نبی کا اس استغراق سے باہر نہیں رہتا۔خاتم النبیین کے حقیقی معنوں کو افضلی النبیین اور زینة النبیین کے معنی بلزوم ذاتی لازم ہیں۔جامعیت کمالی بالذات ان معنوں کا تقاضا کرتی ہے۔لیکن آخری نبی یا نبیوں کوختم کر نیوالا