شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 172 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 172

۱۷۲ علاوہ ختم مصدر اور اس کے مشتقات کے جتنے اور معنے ہیں وہ سب مجازی ہیں۔ایک مجازی معنے بند کرنا اور روکنا ہی۔دوسرے مجازی معنی کسی شئی کی تاثیر کا اثر حاصل ہیں۔تیسرے مجازی معنے آخر کو پہنچنا ہیں۔خَتَمْتُ الْقُران کے معنے میں نے قرآن مجید کو پڑھ کر ختم کر لیا۔آخر کو پہنچنے کے لحاظ سے تیرے مجازی معنے ہیں۔پنجابی اردو اور فارسی زبان میں لفظ ختم ، ختم کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ان زبانوں میں یہ معنے عربی لفظ ختم کے مجازی معنوں سے منقول ہوتے ہیں۔اور اس طرح حقیقت کا رنگ پکڑے گئے ہیں۔اس لئے ہمارے سامنے جب ختم کا لفظ گو عربی زبان میں آئے تو سب سے پہلے ہم اُسے اپنی زبان کے معنے ہی دینا چاہتے ہیں۔اور یہ نہیں دیکھتے کہ عربی کے لحاظ سے تو یہ معنے مجازی ہیں نہ کہ حقیقی۔"خاتم " کے معنی اُردو و فارسی میں " مہر " قرآن مجید میں جہاں کہیں ختم مصدر کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں اُردو اور فارسی زبان میں اُن کا ترجمہ " مہر" کے لفظ سے ہی کیا جاتا ہے۔خواہ وہ لفظ مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہو یا حقیقی معنوں ہیں۔چنانچہ ختم الله على قلوبھم کا ترجمہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں پر مہر لگادی" کیا جاتا ہے۔گو اس جگہ مفردات راغب کے بیان کے مطابق مجازی معنے ہی مراد ہیں۔