شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 171 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 171

161 صورت ارجو مجاز کی معنی ہیں اور پہلی صورت کی قبلی صورت ہے ) اس نقش کی تاثیر کا اثر حاصل ہے۔اور یہ لفظ مجازا کبھی تو خَم عَلَى الْكُتُبِ وَالْاَبْوَابِ کتابوں اور بابوں پر مہر لگتے کے لحاظ سے شئی کی بندش اور روک کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جیسے خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَخَتَمَ عَلَى سمعه وقلبه دیں اس کا استعمال مجازی معنوں میں ہوا ہے اور کبھی اس کے مجازی معنے نقش حاصل کے لحاظ سے کسی شئے کا دوسری شے سے تحصیل اللہ ہوتے ہیں۔اور کبھی اس کے مجازی معنے آخر کو پہنچنا ہوتے ہیں۔اور انہی معنوں میں ختمت القران کہا گیا ہے کہ میں (تلاوت قرآن ہیں، اس کے آخر تک پہنچ گیا۔(یعنی میں نے قرآن مجید ختم کرلیا ) مفردات کے بیان کا ماحصل مفردات راغب کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ ختم اور طبع بلحاظ لعنت عربی ہم معنے مصدر ہیں۔اور دونوں کے حقیقی معنے شہر کے نقشش کی تاثیر کی طرح تاثیر الٹتی ہیں۔یعنی ایک شئی کا اپنے اثرات دوسری شئی میں پیدا کرنا۔اور مہر کے نقوش کی تاثیر ختم کی تاثیر کی ایک مثال ہے۔پس مہر کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ وہ نقوش جو اس کے اندر موجود ہیں۔وہی نقوش دوسری شئی میں پیدا کر تی ہے۔اس کے ه ان معنوں کے مجازی ہونے پر يَتَجَوزُ بِذَلِكَ تارة کا فقرہ گواہ ہے۔اسی کے ذیل میں تَارَةً فِي تَحْصِيلِ أَشْرِ عَنْ شَيْءٍ اعْتِبَارًا بِالنَّقْشِ الْحَاصِل کے الفاظ لائے گئے ہیں۔پس یہ دوسری صورت یعنی نقش حاصل بھی مجازی معنی ہیں نہ حقیقی معنی !