شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 173
16F تغییر بیضاوی کے حاشیہ پر بھی اس آیت کے متعلق لکھا ہے :- إطلاق الْخَيْرِ عَلَى الْبُلُوغِ وَ الْإِسْتِيثَاقِ معنى مَجازي کہ لفظ ختم کا بلوغ الآخر (آخری) اور بند کرنے کے معنوں میں استعمال مجازی معنے کے لحاظ سے ہے۔شرح تعرف جس کے بارہ میں صاحب کشف الظنون فرماتے ہیں کہ اگر یہ کتاب نہ ہوتی تو لوگ تصوف کو نہ سمجھ سکتے۔اس میں خاتم النبیین کے منے پیغمبروں کی مہر ہی کئے گئے ہیں۔چنانچہ لکھا ہے :۔" اگر خاتم را نصب خوانی شهر پیغمبران باشد و آخر پیغمبران۔وچوں خاتم یکسر خوانی شهر کننده و آخر کننده ) اس سے صاف ظاہر ہے کہ اردو اور فارسی زبانوں میں خاتم کے معنے مہر ہی کئے جاتے ہیں۔گو آگے مجازا اس سے دوسرے معنی مراد لیں۔لیکن اگر حقیقی معنی محال نہ ہوں تو مجازی معنے مُراد لینا درست نہیں ہوتا۔خاتم کے حقیقی معنی محال ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ حقیقی معنی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت تامہ اور اشرف الانبیاء ہونے پر دال ہیں۔اور مجازی معنے آخری نبی " کسی ذاتی فضیلت پر دال نہیں۔۔خاتم یا مہر کی اقسام خاتم النبیین کے معنے نبیوں کی شہر سے یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہیئے