شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 231 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 231

۲۳۱ میں ان کی نبوت کی اینٹ جس جگہ لگی ہے تمثیل کے لحاظ سے اُس جگہ کے ساتھ والی جگہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اینٹ نصب ہوئی ہے اب اگر حضرت عیسی " امت محمدیہ میں آئیں تو بنی اسرائیل والے مقام سے اُن کی اینٹ نکل کر بعد میں اسی طرح جگہ پا سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امینٹ کو نہ سے ہٹ کر اور آگے ہو جائے۔اور حضرت علی والی جگہ لے لے۔اور حضرت عیسی کی اینٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اینٹ والی جگہ پر لگائی جائے۔اس طرح کو بنے کی اینٹ حضرت عیسی علیہ السلام بن جائیں گئے۔اور خاتم النبیین ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی خصوصیت چھین لیں گے جو امر محال ہے۔علاوہ ازیں تکمیل محل متقاضی ہے کہ اس سے کوئی اینٹ اپنی جگہ سے ہلائی نہیں جاسکتی۔ورنہ وہ محل پھر ایک دفعہ نامکمل ہوگا۔- (۳) محققین علماء کے نزدیک اس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ نبوت جو آدم علیہ السّلام سے شروع ہوئی اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں کمال کی انتہاء کا مقام حاصل کیا ہے۔انہی معنوں میں آپؐ آخری اینٹ اور خاتم النبیین ہیں کہ نبوت آپ پر کمال کے درجہ پر پہنچی ہے۔چنانچہ مقدمہ ابن خلدون مال پر لکھا ہے : ” نَفَسِرُونَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ بِاللَّبِنَةِ حَى اَحْمَلَتِ الْبُنْيَانَ وَمَعْنَاهُ النَّبِيُّ الذِى حصلَتْ لَهُ النُّبُوَةُ الْكَامِلَةُ ،