شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 232
۲۳۲ یعنی خاتم النبین کی تفسیر اینٹ سے کرتے ہیں یہاں تک کہ اُس اینٹ نے عمارت کو مکمل کر دیا معنی اس کے وہ بنی نہیں جیں کو نبوت کاملہ حاصل ہوئی یا یعنی آپ نے شریعت کو مکمل کر دیا ہے۔چنانچہ علامہ ابن حجر اس کی تشریح میں فرماتے ہیں : الْمُرَادُ هِنَا النَّظُرُ إِلَى الأَكْمَلِ بِالنِّبَةِ إلَى الشَّرِيعَة المُحَمَّدِيَّةِ مَعَ مَا مَضَى مِنَ الشَّرَائِمِ الْكَامِلَةِ " رفتح الباری جلد منش۳ ) یعنی مراد اس تکمیل عمارت سے یہ ہے کہ شریعت محمدیہ پہلے گزری ہوئی کامل شریعتوں کے مقابلہ میں اکمل سمجھی جائے۔یعنی اس مثال سے شریعت محمدیہ کا دوسری شریعیتوں کے مقابلہ میں اکمل قرار دیا مقصود ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حدیث میں ران معنوں میں خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے کہ آپ نے شریعت محمدیہ کو دوسری شریعتوں کے مقابلہ میں اکمل بنا دیا ہے۔گویا شریعیت لانے والے انبیاء میں سے آپ اکمل نبی ہیں۔پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپؐ کے بعد نبوت مطلقہ کا دروازہ اس طرح بند کر دیا گیا ہے کہ غیر تشریعی امتی نبی بھی آپ کے بعد نہیں آسکتا۔شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی فصوص الحکم میں فرماتے ہیں:۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کو خشت کی دیوار سے