شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 230 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 230

طواف کریں اور حیران ہوں اور کہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔فرمایا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ہیں اینٹ ہوں۔اور میں خاتم النبیین ہوں۔وہ (۱) اس حدیث کے متعلق سب سے پہلے یہ بات قابل غور ہے، کہ اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنے سے پہلے انبیاء کی ایک بلکہ محل سے تمثیل دی ہے۔نبوت تشریعی اور نبوت مستقلہ آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیشک اس نبوت کی آخری اینٹ ہیں اور ان معنوں میں آخری نبی ہیں کہ آپ آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والا نبی چونکہ تابع اور غیر مستعمل ہے اس لئے وہ اس جگہ زیر بحث نہیں آسکتا کیونکہ تمثیل میں پہلے انبیاء کا ذکر ہے جو مستقل حیثیت میں بنی ہیں۔تابع اور امتی نبی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہے۔اور اس کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی الگ نبوت ہی نہیں نطقی اور امتی نبی کی نبوت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتوار و برکات کے علی وجہ الکمال پانے کا ہی نام ہے۔پس یہ نبوت تو اس آخری نبی کا فیضان اور اس کا پرتو ہے کوئی نبی نبوت نہیں۔پس آخری اینٹ آپ در اصل صرف محل شریعیت کو کامل کرنے اور جامعیت کمال کے لحاظ سے ہیں۔(۲) دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتے۔کیونکہ اس قصر وقت