شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 227 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 227

۲۲۰ کے حق میں ظاہر ہوتے ہیں۔یہ اس خاتم کی تاثیر ہوتی ہے جو اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ مون کو وہ تمام برکات اور رحمتیں مل جاتی ہیں جو وہ آئین کے ذریعہ طلب کرتا ہے۔میں طرح سنا تم النبیین کی مہر رضا نمیت بمعنی حقیقی شہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف یا غیر امتی کے بنی بننے میں روک ہے ویسے ہی آئین کی خاتم کے نباض اور اللہ کے ذریعہ عباد اللہ سے خُدا تعالیٰ مطلوبہ برکات کے مخالف اثر کو روک دیتا ہے۔اور اس طرح حقیقی معنوں کے ساتھ منع اور استنشاق کا مفہوم بھی بطور لازمی معنے کے جمع ہو جاتا ہے۔(۳)، پھر اس جگہ مَا نَمُ رَبِّ الْعَلَمِينَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الْمُؤْمِنِينَ۔میں زینت کے معنے بھی بطور لازم معنیٰ کے چسپاں ہو سکتے ہیں کیونکہ آمین کی گر جب قبولیت دعا کی صورت میں مومن بندروں پر لگتی ہے تو اس سے مومن بندے برکات حاصل کر کے روحانی اور جسمانی زینت پاتے ہیں۔احادیث نبویہ سے ہمارے معنوں کی تائید نبو (1) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے :- " أنا قائِدُ المُرْسَلِينَ : (کنز العمال جلد ا مننا ) اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ آپ اپنی قیادت اور لیڈرشپ کے اثر کے ذریعہ اپنے کمالات کو ظاہر کرنے والے ہیں۔قائد کے لئے ضروری ہے کہ اُس کے تابعین ہوں۔پس جو ہستی انبیاء کی قائد ہو اس کے بعد اُس کے