شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 228 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 228

۲۲۸ اس دعوی کے ثبوت کے طور پر کسی ایسے نبی کو بھی آنا چاہیے جو اس کی قیادت اور تابعیت کے ماتحت کام کرے۔ورنہ تمام انبیار کا قائد ہونا ایک ایسا دعویٰ ہو گا جس پر مخالفین اسلام کے لئے کوئی دلیل قائم نہ ہو سکے گی (۲) پھر آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- اَنَا سَيْدُ الاَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مِنَ النَّبِيِّينَ " (رواہ الدیلمی ) یعنی ہیں تمام پہلے اور پچھلے انبیاء کا سردار ہوں۔پہلے اس حدیث کے مطابق آپ کے بعد بھی نبی آنے چاہئیں تا آپؐ آخرین کے سردار بھی قرار پائیں۔وو (۳)، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- علمتُ عِلْمَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ " بجوال تحذير الناس ) یعنی یکی اولین اور آخرین کا علم دیا گیا ہوں۔اس جگہ بھی اولین اور آخرین گراد انبیاء ہی ہیں ورنہ محض امتیوں کا علم دیئے جانے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فخر و شرف ہو سکتا ہے ؟ (۴) پھر صا حبزادہ ابراہیم نہ کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لو عاش لَكَانَ صِدَ يُقَا نَبِيَّا ، وابن ماجه جلد کتاب الجنائز) صاحبزادہ ابراہیم ان کی وفات شہد میں ہوئی۔خاتم النبیین کی آیت شد میں نازل ہو چکی ہوئی تھی۔اگر خاتم النبیین کے آپ کے نزدیک یہ معنے ہوتے کہ آپ کی پیروی میں بھی نبی نہیں آسکتا تو پھر تو یہ فرمانا چاہیے تھا کہ ابراہیم