شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 177 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 177

166 یعنی آلہ جس سے مہر لگائی جائے جیسے عالم علم سے اسم آلہ بمعنی لِمَا يُعْلَمُ پہلے ہے۔یعنی ایسی اشیاء ہو خدا کی معرفت کا ذریعہ ہیں کیونکہ دنیا کی ہر چیز معرفت الہی کا ذریعہ ہے۔اسی لئے وہ عالم میں داخل ہے۔خاتم تار کی زیر سے اہم فاعل ہے۔خاتم آلہ کے معنے تاثیر کا ذریعہ ہیں تو خاتم اسم فاعل کے معنے اپنا اثر دوسری نشئی میں پیدا کرنے والا وہ حسب خاتم یعنی بدرجہ کمال موثره کیفیت رکھنے والا ہیں اس خاتم اور خاتم میں صرف بناوٹ کے لحاظ سے فرق ہے مفہوم میں نتیجہ کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔دونوں کا مفہوم یہی ہے کہ خاتم اور خاتم دُوسری نئی میں موثر وجود کا نام ہے۔خَاتَمَ النَّبِيِّن کے حقیقی معنے ! ختم مصدر کے حقیقی معنے تو آپ علوم کر چکے اوریہ بھی معلوم کر چکے ہیں کہ خاتم اور خاتم دو نو لفظ اسی سے مشتق ہیں۔اب یہ دیکھنا ہے کہ جب خاتم یا خاتم کسی گروہ یا جمع کے صیغے کی طرف مضاف ہو تو اس کے حقیقی معنے کیا ہوں گے۔سو واضح ہو کہ لفظ خاتم جب جمع کی طرف مضاف ہو جیسے خاتم الاولیاء تو جڑھ کے طور پر اس خطاب کے حامل ہیں یہ بات پائی جانی چاہئیے کہ وہ اس گروہ کے کمال کے انتہائی نقطہ پر پہنچا ہوا ہو۔گویا خاتم الاولیاء کو خاتم الولایہ بھی ہونا چاہئیے۔جب اس میں یہ جڑھ والے معنے پیدا ہوں گے تو پھر طبیعی طور پر دوسرے میں تاثیر کا ذریعہ بنے گا۔مثلا خاتم الاولیاء وہی ہو گائیں کی تاثیر یعنی افاضہ رُوحانیہ سے ولی پیدا ہو سکیں۔