شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 178 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 178

16^ اسی طرح خاتم النبیین کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ خاتم النبوة ہو یعنی نبوت کا رصف جو پہلے انبیاء کو حاصل تھا خاتم النبیین میں اپنے انتہائی کمال پر پہنچا ہوا ہو۔اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہوں بلکہ وصف نبوت میں ان سب کے مجموعی وصف سے بھی بڑھے ہوئے ہوں۔علامہ ابن خلدون اپنے مقدمہ میں لکھتے ہیں :۔يُمَتِّلُونَ الوَلَايَةَ فِي تَفَاوُتِ مَرَاتِبِهَا بِالنُّبُوَّةِ وَيَجْعَلُونَ صَاحِبَ الْكَمَالِ فِيْهَا خَاتَمَ الْوَلَايَةِ۔رَى حَائِنَا لِلْمَرْتَبَةِ الَّتِي هِيَ خَاتِمَةُ الْوَلَايَةِ كَمَا كَانَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ حَائِنَّا لِلْمَرْتَبَةِ الَّتِي هِيَ خَاتِمَة النُّبُوَّة ر مقدمه وص یعنی صوفیاء ولایت کی مثال نبوت سے دیتے ہیں۔اور ولایت میں جامع کمالات کو خاتم الولا یہ کہتے ہیں۔جیسے خاتم الانبیاء نبوت کے کمال اور مرتبہ کے پورے طور پر جامع ہیں۔اس طرح خاتم النبوۃ ہونے کے بعد اب خاتم النبیین صلی الہ علیہ ولم کی تاثیر یہ ہوگی کہ وہ اپنے افاضہ رومانیہ سے دوسرے شخص کو کمال نبوت پر پہنچا سکیں گے۔کیونکہ جامعیت کمالات نبوت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ خاتم النبیین اپنی تاثیر سے دوسرے شخص میں کمالات نبوت منتقش یا منعکس کر سکنے کا ذریعہ ہو جس طرح مادی مہر اپنے نقوش دوسری شنی میں منتقش یا منعکس کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔خاتم النبیین کے خاتم النبوۃ ہونے کی حقیقت کے پیش نظر