سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 64
64 تکمیل میں لگ جایا کرتے تھے۔“ (الفرقان فضل عمر نمبر دسمبر جنوری ۱۹۶۶، صفحه ۴۳) اس تائید الہی کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال درج ذیل ہے حضرت فضل عمر فرماتے ہیں :- چند سال ہوئے مجھے ایک مکان کی تعمیر کے لئے روپیہ کی ضرورت پیش آئی میں نے اندازہ کرایا تو مکان کے لئے اور اس وقت کی بعض ضروریات کے لئے دس ہزار روپیہ درکار تھا۔میں نے خیال کیا کہ جائداد کا کوئی حصہ بیچ دوں یا کسی سے قرض لوں اتنے میں ایک دوست کی چٹھی آئی کہ میں چھ ہزار روپیہ بھیجتا ہوں اس کے بعد چار ہزار باقی رہ گیا ایک تحصیلدار دوست نے لکھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہمیں دس ہزار روپیہ کی ضرورت تھی اس میں سے چھ ہزار تو مہیا ہو گیا ہے باقی چار ہزار تم بھیج دو مجھے تو اس کا کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آیا اگر آپ کو کوئی ذاتی ضرورت یا سلسلہ کے لئے درپیش ہو تو میرے پاس چار ہزار روپیہ جمع ہے میں وہ بھیج دوں۔میں نے انہیں لکھا کہ واقعی صورت تو ایسی ہی ہے بعینہ اسی طرح ہوا ہے۔گو یا ضرورت مجھے تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سے کہلوانے کی بجائے اس دوست کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے کہلوا دیا۔نہ ا سے علم تھا کہ مجھے دس ہزار کی ضرورت ہے اور یہ کہ اس میں سے کسی نے چھ ہزار بھیج دیا ہے اور اب صرف چار ہزار باقی ہے اور نہ مجھے علم تھا کہ اس کے پاس روپیہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے خود ہی تمام اس کے لئے انتظام فرما دیا۔تو بعض اوقات ایسے مواقع اللہ تعالیٰ خود ہی بہم پہنچا دیتا ہے۔اس کے خاص بندوں کے لئے یہ صورت عام ہوتی ہے اور عام بندوں کے لئے شاذ کے طور پر لیکن سب ہی کے لئے حقیقی نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔(الفضل اا۔جولائی ۱۹۳۹ء صفحہ۴ ) میں اسی قادر و توانا خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ باوجود ایک سخت کمزور انسان ہونے کے مجھے خدا تعالیٰ نے ہی خلیفہ بنایا ہے اور میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس نے آج سے ۲۲ ۲۳ سال پہلے مجھے رؤیا کے ذریعہ یہ بتا دیا تھا کہ تیرے سامنے ایسی