سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 65
65 مشکلات پیش آئیں گی کہ بعض دفعہ تیرے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوگا کہ اگر یہ بوجھ علیحدہ ہو سکتا ہو تو اسے علیحدہ کر دیا جائے مگر تو اس بوجھ کو ہٹا نہیں سکے گا اور یہ کام بہر حال نباہنا پڑے گا اگر میں اس بیان میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی مجھ پر الفضل۲۰۔نومبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۷ ) خدا تعالیٰ پر توکل اور خدائی وعدوں کے پورا ہونے پر مکمل یقین جو مخالفت کی شدت، مخالفوں کی کثرت مخالفانہ حالات اور فتنہ گروں کی فتنہ سامانیوں میں کبھی بھی متزلزل یا کم نہ ہوا بلکہ ہمیشہ لعنت ہو۔“ بڑھتا ہی چلا گیا۔آپ کس پر شوکت انداز میں اس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔میں بے شک انسان ہوں خدا نہیں ہوں مگر میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرماں برداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری ہے۔مجھے جو بات کہنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے میں اسے چھپا نہیں سکتا۔مجھے اپنی بڑائی بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور میں اس وقت تک اس شرم کی وجہ سے رُکا رہا ہوں لیکن آخر خدا تعالیٰ کے حکم کو بیان کرنا ہی پڑتا ہے۔میں انسانوں سے کام لینے کا عادی نہیں ہوں۔تم بائیس سال سے مجھے دیکھ رہے ہو اور تم میں سے ہر ایک اس امر کی گواہی دیگا کہ ذاتی طور پر کسی سے کام لینے کا میں عادی نہیں ہوں حالانکہ اگر میں ذاتی طور پر بھی کام لیتا تو میرا حق تھا مگر میں ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہوں کہ خود دوسروں کو فائدہ پہنچاؤں مگر خود کسی کا ممنونِ احسان نہ ہوں۔خلفاء کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس سے اس کے ماں باپ نے خدمات نہ لی ہوں گی مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی سے ذاتی فائدہ اُٹھانے یا خدمات لینے کی میں نے کوشش کی ہو۔میرے پاس بعض لوگ آتے ہیں کہ ہم تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں آپ اپنی پسند کی چیز بتا دیں مگر میں خاموش ہو جاتا ہوں۔آج تک ہزاروں نے مجھ سے یہ سوال کیا ہو گا مگر ایک بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس کا جواب دیا ہو۔میرا تعلق خدا تعالیٰ سے ایسا ہے کہ وہ خود میری دستگیری کرتا ہے اور میرے تمام کام خود کرتا ہے“ ( الفضل ۴۔ستمبر ۱۹۳۷ ء صفحه ۸) ” میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بالکل سید عبد القادر جیلانی " والا ہے۔