سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 63
63 عبادت میں انہاک و شغف اور دعا پر یقین کے متعلق حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب لکھتے ہیں : - ہم دھرم سالہ پہنچے مگر وہاں بارش کی زیادتی کی وجہ سے آب و ہوا؟ ناموافق ثابت ہوئی اس لئے ڈلہوزی میں مکان تلاش کرا کر وہاں پہنچ گئے۔یہاں کی آب و ہوا موافق رہی۔ایک روز حضور نے بعض ساتھیوں کو ہمراہ لے کر دو تین میل کے فاصلے پر جنگل میں دُعا کی۔اس غرض کے لئے دو رکعت نماز با جماعت ادا کی۔باوجود یکہ حضور کو انفلوئنزا کے گذشتہ حملہ کی وجہ سے کمزوری لاحق تھی اور قریب ہی میں بخار کا حملہ بھی ہو چکا تھا مگر دُعا کے لئے اسقدر لمبے سجدے حضور نے کئے کہ مقتدی تھک تھک گئے۔مگر حضور نے دُعا کو جاری رکھا۔اور ڈیڑھ گھنٹہ سے زائد وقت میں دو رکعت نماز ادا کی۔(ایاز محمود جلد چہارم صفحه ۱۹۹) خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہر رمضان کے آخر میں درس کے اختتام پر حضور کی لمبی لمبی دعائیں جن میں خشیت اور گریہ وزاری کا ایک عجب عالم ہوتا تھا ، جلسہ سالانہ کے افتتاح اور اختتام پر آپ کی متضرعانہ دعا ئیں ، اسی طرح مجلس شوری کے شروع میں، ربوہ کی آبادی اور افتتاح کے مواقع پر، مسجد مبارک کی بنیا درکھتے ہوئے ، حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات پر نہایت تضرع سے دعاؤں کا نظارہ تو ابھی بھی آنکھوں کے آگے گھومتا ہے۔مکرم مولانا عبد الرحمان صاحب انور کو مختلف حیثیتوں میں آپ کے ساتھ لمبا عرصہ کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی وہ اپنے طویل مشاہدے اور بارہا کے تجربات کا خلاصہ بیان کرتے ا ہوئے کہتے ہیں :- یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور اگر چہ عام انسان تھے لیکن حضور کے کاموں کو دیکھنے کے بعد ہر شخص یہ تسلیم کرنے کیلئے مجبور ہو جاتا ہے کہ اس خاص انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بہت ہی خاص تعلق ہے اور اس کی خاص تائید اس کے شامل حال ہے چنانچہ بار ہادیکھا گیا ہے کہ حضور کوکسی ایسی چیز کی ضرورت محسوس ہوئی ہے جو عام حالات میں قریباً ناممکن الحصول ہوتی تھی تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کے حصول کے سامان ہو جایا کرتے تھے گویا اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضور کے منشاء کی