سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 524 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 524

466 مندرجہ بالا مقامات پر جہاں جہاں حضور کے نامہ جات دستی دکھائے گئے ہماری سفر کی کوفت راحت سے بدل جاتی رہی اور بڑی محبت اور مہمان نوازی سے وہ پیش آتے۔یہ تھی حضور کے نزدیک حج کی اہمیت اور اپنے ناچیز خادمان سے شفقت اور محبت کا سلوک۔اسی سال حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر بھی حج کے فریضہ کی ادائیگی کے لئے تشریف لے گئے تھے ان کی صحبتوں سے بھی فیضیاب ہونے کا موقع ملتا رہا۔مکرم عبدالجلیل صاحب عشرت جو مشہور صحافی ، شاعر اور ادیب مولانا عبدالمجید سالک کے بھائی تھے لکھتے ہیں :- میرا رشتہ ہونے سے پہلے بعض روکیں پیدا ہوئیں جن کے سارے پس منظر کا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو خوب علم تھا۔حضور نے خطبہ نکاح فرماتے ہوئے ان روکوں کا ذکر تو نہ کیا لیکن ایک حدیث نبوی بیان فرمائی جس سے ( پتہ چلتا تھا کہ حضور کے ذہن میں اس رشتہ کے ہونے سے پہلے جو واقعات ہوئے تھے وہ مستحضر تھے۔اسی طرح ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں : - حضور کے خدام نے حضور کی دعاؤں کی قبولیت کے بے شمار نشانات دیکھے ہیں۔میں کسی تکلیف یا کرب کی حالت میں جب حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست بھجوا دیتا تھا تو ایک اطمینان کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔میری بچی عزیزہ بشر کی صدیقہ ٹائیفائیڈ سے سخت بیمار ہوئی بعض دفعہ اس کی زندگی سے مایوسی ہو جاتی تھی اس حالت میں حضور کی خدمت میں تار دید یتا تھا اس کے الفاظ تقریباً یہ ہوتے تھے۔کہ بچی بستر مرگ پر ہے دعا فرمائیں“ تار بھیجنے کے بعد بچی کی طبیعت بہتر ہو جاتی تھی کئی دفعہ ایسا ہوا۔الْحَمْدُ لِلهِ کہ بعد میں بچی کو کامل صحت ہو گئی۔حضور کے احسانات کا تذکرہ بڑی لذیذ داستان ہے اسی طرح حضور کی