سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 525 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 525

467 استجابت دعا کے تجربات بھی سینکڑوں وابستگان خلافت کو ہوئے۔نہ تنہا من دریں میخانه مستم جنید و شیلی و عطار ہم مکرم عبدالجلیل صاحب عشرت حضور کی غیر معمولی شفقت و پیار کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- میرے والد حضرت شیخ غلام قادر پٹھانکوٹ (ضلع گورداسپور ) میں سیکرٹری میونسپل کمیٹی تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ڈلہوزی یا پالم پور وغیرہ تشریف لے جاتے وقت جب پٹھانکوٹ کے راستہ سے گزرا کرتے تو حضرت والد صاحب حضور کے نیاز حاصل کرتے۔ایک دفعہ حضور نے از راہ ذرہ نوازی اپنی حرم محترمہ کے ہمراہ غریب خانہ پر کھانا بھی تناول فرمایا۔بعض دفعہ پٹھانکوٹ کے قریب دریائے چکی کے کنارے ڈھانگو پہاڑ پر شکار وغیرہ کیلئے خیموں میں قیام فرمایا کرتے تھے پہاڑ پر جانے کے لئے دریائے چکی کو عبور کرنا پڑتا تھا پانی عموماً پایاب ہوتا تھا اور گزرنے والا آسانی سے دریا پار کر سکتا تھا۔ایک دفعہ حضور ڈھانگو پہاڑ پر خیمہ زن تھے کہ والد مرحوم حضور کی ملاقات کے لئے وہاں گئے ابھی دریا کے کنارے پر ہی تھے کہ حضور نے دور سے انہیں آتا ہوا دیکھا والد صاحب فرماتے تھے کہ میں پایاب پانی سے گزرنے والا ہی تھا کہ دیکھا کہ حضور نے اپنے خادم عبدالواحد صاحب افغان کو بھیجا ہے جنہوں نے آتے ہی کہا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ میں آپ کو کندھوں پر اُٹھا کے دریا کے پارلے جاؤں۔چنانچہ عبدالواحد صاحب اصرار سے والد صاحب کو کندھوں پر اُٹھا کر دریا کے پارلے گئے یہ حضور کے احسان اور شفقت کی ایک مثال ہے۔الفضل ۲۹۔جون ۱۹۶۶ء صفحہ۵ ) مکرم عشرت صاحب کی والدہ محترمہ کی وفات کے موقع پر حضور نے جو شفقت فرمائی اس کے متعلق مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے درویش قادیان لکھتے ہیں :۔حضور احباب سے ان کے مراتب کے مطابق احترام کا سلوک کرتے تھے۔مجھے یاد ہے جناب مولانا عبدالمجید سالک مرحوم مدیر روزنامه انقلاب