سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 476
418 66 بذریعہ تار مجھے اس اقدام سے روکنے کی کوشش بھی کی لیکن مجھ پر اس کا کوئی خاص اثر نہ ہوا۔اس پر مکرم مولانا عبدالرحیم صاحب درد کی طرف سے حضرت اقدس کا ارشاد بذریعہ تا رملا کہ واپس مت آ ؤ جب تک بیرسٹری کی تعلیم مکمل نہ کرلو۔اس پر اللہ تعالیٰ نے خاکسار کے ذہن سے فوری واپسی کا ارادہ نکال دیا اور خاکسار نے از خود بیرسٹری میں داخلہ لے لیا اور حضور کی دعاؤں اور توجہ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں نے بیرسٹری کا کورس با وجود صرف بی اے ہونے کے دو سال میں اچھے نمبروں پر پاس کر لیا۔اور آج تک حضرت اقدس کی اس نوازش کے نتیجے میں جو حضور نے خاکسار کی تکمیل تعلیم کے متعلق ارشاد بھجوا کر مجھے انگلستان میں روکنے کی صورت میں فرمائی دل، حضور کی محبت اور عشق کے گیت گاتا ہے۔“ جب خاکسار تکمیل تعلیم کے بعد انگلستان سے واپسی پر حضور کی خدمت میں زیارت کے لئے قادیان حاضر ہوا تو حضور نے از راہِ ذرہ پروری خاکسار کو اپنے ساتھ کھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔کھانے پر کافی احباب موجود تھے جن میں برادرم مکرم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی تھے۔کھانا ختم ہوا تو حضور نے خاکسار کو سب سے آخر شرف مصافحہ بخشا اور فرمایا آپ تھوڑی دیر ٹھہر جائیں۔جب باقی احباب سیڑھیاں نیچے اتر گئے تو حضور نے نہایت محبت اور شفقت سے خاکسار کا ہاتھ تھپکتے ہوئے فرمایا آپ سے میرا تعلق خاص رنگ کا ہے۔اس ارشاد سے جو روحانی مسرت خاکسار کو حاصل ہوئی آج بھی اُس کا تصوّر کر کے دل اور روح مسرت سے لبریز ہو جاتے ہیں اور بے اختیار حضور کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے مکرم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کو یہ سعادت حاصل تھی کہ وہ ابتدائی عمر سے ہی حضور کے مخلص اور بے تکلف خدام میں شامل رہے اور حضور بھی ان کی خدمات کی قدر کرتے تھے۔مکرم شیخ صاحب کے مندرجہ ذیل خط سے حضور کی سیرت کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور احمدی بھائیوں کی باہم بے تکلفی بھی نظر آتی ہے جو اپنی جگہ ایک مزے کی چیز ہے:۔ایک دفعہ راولپنڈی شہر کے کسی بازار میں پھر رہا تھا مجھے کسی نے کہا کہ