سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 475 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 475

417 ۱۹۴۵ء میں ڈلہوزی ترجمۃ القرآن انگریزی کے کام کے لئے حضرت مولوی شیر علی صاحب اور مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم اے گئے ہوئے تھے حضرت مولوی صاحب کا غدہ قدامیہ کی سوزش سے اچانک پیشاب بند ہو گیا۔حضور نے خاص توجہ سے حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے علاج کرایا اور خود بھی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور باقاعدہ اطلاع منگواتے رہے۔بعض خاندانوں سے قدیم تعلقات ہونے کی وجہ سے حضور ان کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔شدید علالت کے باوجود حضور نے ان کے جذبات کا خیال رکھا۔بعض جنازے ( جنازہ گاہ تک چل کر نہ جا سکنے کی وجہ سے ) قصر خلافت میں پڑھائے۔ایک جنازہ کی نماز کے وقت تو حضور کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے اور پہرہ داروں نے حضور کو سہارا دیا ہوا تھا“ مکرم چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب حضور کی ذاتی توجہ اور مہربانی سے انگلستان میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے قابل ہوئے۔اس خادم نوازی کا ذکر کرتے ہوئے مکرم چوہدری صا لکھتے ہیں :- میراتعلق حضرت صاحب سے میری شعور کی عمر سے شروع ہوا اور حضور کے وصال تک بفضلہ تعالیٰ قائم رہا۔حضور سے جس بے پایاں شفقت کا ظہور خاکسار پر ہوتا رہا اس کا بیان الفاظ میں ممکن ہی نہیں۔میری تعلیم کے متعلق خاص واقعہ جو میرے نزدیک قابل ذکر ہے اور جو میری زندگی کو سنوارنے کا موجب ہوا یہ ہے کہ میں ۱۹۲۸ء میں بی۔اے پنجاب یونیورسٹی سے پاس کرنے کے بعد انگلستان بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے گیا۔چونکہ اس ملک میں میں تو وارد تھا اور مغربی تہذیب وغیرہ سے گلی طور پر نا آشنا تھا وہاں کے طور طریقوں اور اس وقت کے ہائی کمشنر فار انڈیا ان انگلینڈ (جو ایک بنگالی ہندو تھے ) کے نہایت ہی نا واجب سلوک کی وجہ سے دل برداشتہ ہو گیا اور واپس آنے کے لئے تیار ہو گیا۔برادرم مکرم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی خدمت میں اپنے اس ارادے کے متعلق ہوائی ڈاک سے اطلاع بھی دیدی اور جہاز میں واپسی کے لئے جگہ بھی مخصوص کروالی۔برادرم مکرم موصوف نے صاحب