سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 477
419 حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی ہر ماہ حضرت صاحب کو بذریعہ تار ۲۰۰ روپے بھجواتے ہیں میں سن کر حیران ہو گیا۔میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی میں نے بھی بذریعہ تا ر روپے ارسال کئے حضرت صاحب کی طرف سے نوازش نامہ آیا جوا بھی تک میرے پاس محفوظ ہے۔حضور نے لکھا میں روپے کے لئے دعا کر رہا تھا کہ تمہارا روپیہ پہنچا اس لئے میں نے تمہارے لئے خاص دعا کی ہے۔چونکہ اُن دنوں میں حضرت صاحب کی خدمت میں بار بار لکھا کرتا تھا کہ اولاد نہیں حضور دعا فرمائیں نیک اولا د عطا ہو حضور نے میری التجا کو مدنظر رکھ کر بھی فرمایا تمہارے نکاح ثانی کے لئے دعا اور تجویز۔میں کچھ دنوں کے بعد پنڈی سے قادیان آیا چونکہ میں حضور کی خدمت میں نکاح ثانی کے لئے لکھا کرتا تھا در د صاحب مرحوم گول کمرے سے نکلے تو میں نے ان سے بے تکلفانہ کہا کہ حضرت صاحب کو ملنا چاہتا ہوں بولے ملاقات نہیں ہو سکتی۔میں نے کہا میں آپ کو روٹی نہیں کھانے دونگا کہنے لگے ہم کھاتے ہی ایک وقت ہیں کیونکہ کام زیادہ ہے۔میں نے اُن سے منت سماجت کرنی شروع کی خیر درد صاحب نے جا کر حضور کی خدمت میں میرا بتایا کہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ عرض کرتا ہے حضور نے جواب دیا کہ راولپنڈی خط لکھا ہے وہاں جا کر پڑھ لیں۔میں نے عرض کیا حضور کی زبانِ مبارک سے یہ دو الفاظ سننا چاہتا ہوں چنا نچہ مجھے اندر بلا لیا گیا۔حضور کرسی پر تشریف فرما تھے۔پاس ہی ایک بڑی دری بچھی ہوئی تھی۔میں زمین پر بیٹھنے لگا مگر حضور نے از راہ شفقت اپنے پاس بٹھا لیا فرمایا تمہارے نکاح ثانی کے متعلق فکر کر رہا تھا اور میں نے ایک جگہ تجویز بھی کر لیا تھا مگر پھر کسی کی بددعا سے ڈر گیا اور ارادہ ترک کر دیا۔اب میں اِنشَاءَ اللہ کسی دوسری جگہ دیکھوں گا۔پھر درد صاحب سے فرمانے لگے فلاں رشتہ جو پٹیالہ کا ہے ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب سے پوچھ کر آ ئیں۔پوچھ کر آئے حضور ابھی تک اس لڑکی کی شادی کہیں نہیں ہوئی حضور مجھ سے فرمانے لگے کیا وہاں آپ کی شادی کر دیں۔میں نے عرض کیا کہ اپنی نیت اور ارادے سے کی ہوئی شادی سے جو پھل پایا ہے اس کا حضور کو علم ہی ہے۔اب اپنا دخل دینے کا ارادہ نہیں ہے اپنی