سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 141
141 ہدایت ہی ہدایت اور نور ہی نور ہے۔مجھے تو اس کتاب کا کوئی فقرہ ایسا نظر نہیں آیا جو زائد اور بلا ضرورت ہو یا جس میں نور اور ہدایت نہ ہو اس سے اُتر کر مثنوی رومی بڑی اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے۔“ (الفضل ۲۶۔جولائی ۱۹۴۰ء صفحہ ۲) یہ سوال ایک عام مجلس میں پوچھا گیا تھا اور اس کا جواب فی البدیہہ بغیر کسی تیاری کے دیا گیا تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نے تصوف کی بہت سے کتب پڑھی ہوئی تھیں اور آپ ان کا باہم موازنہ کر کے اپنی سوچی سمجھی رائے پیش کر سکتے تھے۔ایک اور مجلس میں حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے مسند احمد بن حنبل کے متعلق ایک سوال اپنے مسنداحمد پوچھا تو اس کے جواب میں حضور نے اسی مجلس میں مکمل اور تحقیقی جواب دیتے ہوئے فرمایا: - حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ مسند احمد بن حنبل کے متعلق فرمایا کہ یہ حدیث کی ایک نہایت معتبر کتاب ہے مگر اس میں بعض ایسی روایات بھی شامل ہو گئی ہیں جو کمزور ہیں۔امام احمد بن حنبل کا ایک لڑکا تھا جو عبداللہ تھا اس کے متعلق آپ نے فرمایا کہ اس کی روایات درست ہیں مگر کچھ اور روایات کا ذکر کیا کہ وہ ایسی محفوظ نہیں ہیں اور آپ نے فرمایا میرا دل چاہتا تھا اصل کتاب کو علیحدہ کر لیا جا تا مگر یہ کام میرے وقت میں نہیں ہو سکا اس کے بعد میرا نام لیکر فرمایا۔میاں یہ کام شاید آپ کے وقت میں ہو جائے۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بھی اس وقت موجود تھے۔مجھے آپ کی اس بات سے معلوم ہوتا تھا کہ اس میں دو قسم کی روایتیں ہیں مگر جب میں نے خود کتاب پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ اس میں دو قسم کی نہیں چھ قسم کی روایات ہیں۔آپ نے فرمایا تھا کہ عبداللہ کی روایتیں تو ٹھیک ہیں مگر آپ کے شاگرد کی روایتیں ٹھیک نہیں ہیں۔لیکن چونکہ اس میں چھ قسم کی روایتیں ہیں اس لئے حضرت خلیفہ اول کے بیان کی تعیین نہیں رہتی البتہ شارحین نے خود بحث کر کے روایات کے ایک حصہ کو ضعیف قرار دیا ہوا ہے۔چنانچہ وہ چھ قسم کی روایات جو مسند احمد بن حنبل میں ہیں یہ ہیں۔(1) وہ روایات جو عبد اللہ نے اپنے والد امام احمد سے روایت کی ہیں۔(۲) وہ روایات جو عبد اللہ نے اپنے والد اور بعض دوسرے محدثین سے سنی ہیں۔(۳) وہ روایات جو عبد اللہ نے امام احمد سے سنی ہی نہیں دوسروں سے سنی ہیں اور